جے ڈی وینس کی اسرائیل پر سخت تنقید، ایران معاہدے کو امن کی جانب اہم پیش رفت قرار

0
6

واشنگٹن (ایم این این): امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو موقع دے اور سفارت کاری کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے۔

دی نیویارک ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے معاہدے پر دستخط کے ایک روز بعد شائع ہوا، وینس نے اسرائیلی قیادت کے مؤقف پر سخت تنقید کی۔

انہوں نے اسرائیلی وزراء بیزلیل سموٹریچ اور ایتامار بن گویر سمیت دیگر ناقدین کے بیانات کا جواب دیتے ہوئے سوال کیا کہ ان کے پاس موجودہ صورتحال کا متبادل حل کیا ہے۔

جے ڈی وینس نے کہا کہ کسی بھی ملک کے تمام قومی سلامتی کے مسائل صرف فوجی کارروائیوں کے ذریعے حل نہیں کیے جا سکتے۔ انہوں نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ مذاکرات کو آگے بڑھنے دے اور امریکہ کی طویل المدتی حمایت کو بھی تسلیم کرے۔

ان کے یہ ریمارکس ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ حالیہ دنوں میں اسرائیلی پالیسیوں، خصوصاً جنوبی لبنان میں جاری فوجی کارروائیوں، پر غیر معمولی تنقید کر رہی ہے۔

صدر ٹرمپ نے بھی حالیہ دنوں میں اسرائیل کی جنگی حکمت عملی پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال کے باعث بڑی تعداد میں عام شہری ہلاک ہو رہے ہیں اور فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

وائٹ ہاؤس میں ایک پریس بریفنگ کے دوران وینس نے کہا کہ معاہدہ آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے دوبارہ کھولنے، ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے اور لبنان سمیت مختلف محاذوں پر لڑائی کے خاتمے کی راہ ہموار کرتا ہے۔

انہوں نے ان اعتراضات کو مسترد کیا کہ معاہدہ ایران کے حق میں زیادہ جھکاؤ رکھتا ہے۔ ان کے مطابق جنگ کے نتیجے میں امریکہ کو بہتر مذاکراتی پوزیشن حاصل ہوئی ہے کیونکہ ایران کے جوہری ڈھانچے، روایتی فوجی صلاحیت اور معیشت کو نقصان پہنچا ہے۔

وینس نے اس پیش رفت کو امریکہ کی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایران اپنے رویے میں تبدیلی نہیں لاتا تو بھی اس کی فوجی اور جوہری صلاحیتوں کو دھچکا پہنچ چکا ہے، جبکہ اگر وہ تعاون کا راستہ اختیار کرتا ہے تو مشرق وسطیٰ اور ایران کے درمیان تعلقات میں مثبت تبدیلی آ سکتی ہے۔

معاہدے میں ایران کے توانائی کے شعبے پر عائد بعض پابندیوں میں فوری نرمی، 300 ارب ڈالر کے تعمیر نو فنڈ کی تشکیل، منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی پر مذاکرات اور باقی پابندیوں کے خاتمے کے لیے فریم ورک شامل ہے۔

اس کے علاوہ ایران نے اپنے اعلیٰ سطح پر افزودہ یورینیم کے ذخائر کو ملک کے اندر ہی کم درجے پر لانے پر اتفاق کیا ہے، جبکہ جوہری پروگرام کے دیگر اہم معاملات کو 60 روزہ مذاکراتی مرحلے کے لیے مؤخر کر دیا گیا ہے۔

تاہم ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور خطے میں اس کے اتحادی گروہوں کی حمایت جیسے اہم مسائل اب بھی حل طلب ہیں اور آئندہ مذاکرات میں زیر بحث آئیں گے۔

جے ڈی وینس نے کہا کہ مستقبل کے مذاکرات کا ایک اہم مقصد یہ یقینی بنانا ہوگا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کبھی عالمی تجارت اور توانائی کی فراہمی کے خلاف دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال نہ کیا جا سکے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں