اسلام آباد (ایم این این): ماہرین صحت اور متعدد بین الاقوامی طبی تحقیقات کے مطابق دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی جنگلاتی آگ کا دھواں انسانی جسم کے تقریباً ہر عضو کو متاثر کر رہا ہے اور ہر سال ہزاروں اموات جبکہ لاکھوں افراد مختلف بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔
بین الاقوامی طبی ماہرین کے مطابق جنگلاتی آگ سے اٹھنے والا دھواں چند گھنٹوں کے اندر دمے کے شدید دوروں، دل کے امراض، سانس کی بیماریوں، قلبی پیچیدگیوں اور ذہنی صحت کے مسائل میں نمایاں اضافہ کر دیتا ہے، جس کے باعث اسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈز پر شدید دباؤ پڑتا ہے۔
تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ حاملہ خواتین میں اس دھوئیں کی وجہ سے قبل از وقت زچگی اور کم وزن بچوں کی پیدائش کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، جبکہ ایسے بچوں کو مستقبل میں سانس کی دائمی بیماریوں کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ طویل عرصے تک دھوئیں کی زد میں رہنے سے بعض اقسام کے کینسر، ڈیمنشیا اور دیگر دائمی امراض کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ دھواں جسم کے مدافعتی نظام کو غیر معمولی طور پر متحرک کر کے شدید سوزش پیدا کرتا ہے، جس سے دماغ، جلد، دل، پھیپھڑوں اور حتیٰ کہ مردانہ تولیدی صحت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ ساٹھ سال سے زائد عمر کے افراد میں فالج کا خطرہ بھی نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ جنگلاتی آگ کا دھواں ایک زہریلا مرکب ہے جس میں جلتے ہوئے درختوں، گھروں، گاڑیوں اور دیگر اشیا سے خارج ہونے والے ایک ہزار سے زائد مضر کیمیائی اجزا شامل ہوتے ہیں، جن میں فارملڈیہائیڈ اور دیگر خطرناک نامیاتی مرکبات بھی شامل ہیں۔
ماحولیاتی ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے باعث شمالی امریکہ، یورپ، کینیڈا اور آرکٹک سمیت دنیا کے مختلف خطوں میں جنگلاتی آگ کی شدت اور تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ صرف امریکہ میں رواں سال اب تک تقریباً 14 ہزار 860 مربع کلومیٹر رقبہ آگ کی لپیٹ میں آ چکا ہے، جو گزشتہ دس برس کی اوسط سے 31 فیصد زیادہ ہے۔
انتہائی باریک ذرات جسم کے قدرتی حفاظتی نظام کو عبور کر کے پھیپھڑوں اور خون میں داخل ہو جاتے ہیں، جہاں وہ دل اور سانس کے نظام میں فوری سوزش پیدا کرتے ہیں اور چند منٹوں یا گھنٹوں میں سنگین طبی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔
حالیہ سائنسی تحقیق کے مطابق امریکہ میں جنگلاتی آگ کے دھوئیں سے طویل المدتی متاثر ہونے کے باعث ہر سال اوسطاً 24 ہزار سے زائد افراد جان کی بازی ہار جاتے ہیں، جبکہ عالمی سطح پر یہ تعداد تقریباً 6 لاکھ 78 ہزار سالانہ بتائی گئی ہے، جن میں تقریباً 39 فیصد پانچ سال سے کم عمر بچے شامل ہیں۔
ڈاکٹروں کے مطابق ایسے حالات میں دمے، نمونیا، سانس کی بیماریوں، ذہنی دباؤ، ڈپریشن اور فیصلہ سازی کی صلاحیت میں کمی جیسے مسائل بھی نمایاں طور پر بڑھ جاتے ہیں۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ شدید دھوئیں کے دوران غیر ضروری طور پر باہر جانے سے گریز کریں، معیاری حفاظتی ماسک استعمال کریں، گھروں کی کھڑکیاں اور دروازے اچھی طرح بند رکھیں، مؤثر ایئر فلٹریشن نظام استعمال کریں اور ضرورت پڑنے پر صاف ہوا فراہم کرنے والے محفوظ مقامات کا رخ کریں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر موسمیاتی تبدیلی کی رفتار برقرار رہی تو جنگلاتی آگ اور اس سے پیدا ہونے والا دھواں مستقبل میں دنیا کے سب سے بڑے ماحولیاتی اور صحت عامہ کے خطرات میں شامل ہو جائے گا۔


