اسلام آباد (ایم این این): ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی پیر کی شب سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے، جہاں ان کا استقبال وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کیا۔ ایرانی وزیر داخلہ کے ہمراہ اعلیٰ سطح کا وفد بھی پاکستان پہنچا ہے۔
سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق اسکندر مومنی اپنے دورے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز و چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں پاک۔ایران تعلقات، سرحدی تعاون، علاقائی سلامتی اور مشرق وسطیٰ کی تازہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
سفارتی ذرائع کے مطابق ایرانی وزیر داخلہ پاکستانی حکام سے بھی مشاورت کریں گے جنہوں نے امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششوں میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان گزشتہ ماہ طے پانے والے اسلام آباد مفاہمتی معاہدے (MoU) کو دوبارہ فعال بنانے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
پاکستان کی ثالثی میں 18 جون کو امریکا اور ایران کے درمیان 14 نکاتی عبوری اسلام آباد معاہدہ طے پایا تھا، جس کا مقصد جنگ بندی، آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے دوبارہ کھولنا اور خطے میں کشیدگی کا خاتمہ تھا، تاہم بعد ازاں یہ معاہدہ عملی طور پر ناکام ہوگیا۔
دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ واشنگٹن نے مسلسل نویں رات بھی ایران کے مختلف علاقوں پر حملے جاری رکھے، جن میں ایک ایسا شہر بھی شامل تھا جہاں جوہری تنصیب موجود ہے۔
جواباً ایران کے اسلامی انقلابی گارڈز کور (IRGC) نے بحرین، اردن اور شام میں اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، جبکہ بحرین نے الزام عائد کیا کہ ایرانی کارروائیوں سے اس کے فضائی نیویگیشن نظام کو بھی نقصان پہنچا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کے خاتمے کے اعلان کے بعد ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی موجودہ صورتحال کو "مکمل جنگ” قرار دیتے ہوئے امریکا پر اسلام آباد معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔
اس کے باوجود ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ثالث ممالک کے ذریعے امریکا کے ساتھ سفارتی رابطے اب بھی جاری ہیں اور مذاکرات کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے۔
جنگ کے دوبارہ آغاز سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت پر دوبارہ پابندیاں عائد کر دی ہیں، جبکہ امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کے خلاف اپنی کارروائیاں مزید سخت کر دی ہیں۔
پاکستان خطے میں امن کے قیام، کشیدگی کے خاتمے اور عالمی توانائی کی ترسیل کو محفوظ بنانے کے لیے مسلسل سفارتی کردار ادا کر رہا ہے اور اسلام آباد کی کوشش ہے کہ فریقین دوبارہ مذاکرات کی میز پر آئیں اور خطے میں پائیدار امن قائم ہو۔


