اسلام آباد (ایم این این): آل پاکستان پیٹرول پمپس اونرز ایسوسی ایشن (APPPOA) نے حکومت کے ساتھ روزانہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے مجوزہ نظام پر مذاکرات ناکام ہونے کے بعد بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب سے ملک گیر غیر معینہ مدت کی ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے۔
یہ اعلان وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کی سربراہی میں حکومتی وفد اور پیٹرول پمپ مالکان کے نمائندوں کے درمیان ہونے والے تقریباً ایک گھنٹے کے مذاکرات کے بعد کیا گیا، تاہم فریقین کسی اتفاق رائے پر نہ پہنچ سکے۔
ایسوسی ایشن کے وفد میں چیئرمین ہمایوں خان، وائس چیئرمین نعمان علی بٹ اور دیگر عہدیداران شامل تھے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نعمان علی بٹ نے حکومت کے روزانہ پیٹرولیم قیمتوں کے تعین کے منصوبے کو ناقابلِ عمل اور پیٹرول پمپ مالکان کے لیے ناقابل قبول قرار دیا۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ماہانہ بنیادوں پر مقرر کی جائیں کیونکہ روزانہ قیمتوں میں ردوبدل سے کاروباری منصوبہ بندی متاثر ہوگی اور مالی نقصان کا خدشہ بڑھے گا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ گزشتہ تین برس سے پیٹرول ڈیلرز کا کمیشن نہیں بڑھایا گیا، جبکہ اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اس لیے کمیشن میں فوری اضافہ ناگزیر ہے۔
چیئرمین ہمایوں خان نے کہا کہ پیٹرول پمپ مالکان پہلے ہی اوگرا (OGRA)، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (OMCs) اور حکومتی پالیسیوں کے باعث شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں۔
ان کے مطابق روزانہ قیمتوں کے نظام سے آئل مارکیٹنگ کمپنیاں فائدہ اٹھائیں گی کیونکہ وہ قیمتوں میں کمی کی صورت میں سپلائی روک سکتی ہیں، جبکہ مالی بوجھ پیٹرول پمپ مالکان پر منتقل ہوگا۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اتنا اہم فیصلہ متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کیے بغیر کیا، جو چھوٹے کاروباروں کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔
ہمایوں خان نے اعلان کیا کہ اگر حکومت نے فیصلہ واپس نہ لیا تو ملک بھر کے تقریباً 15 ہزار پیٹرول پمپ جمعرات سے بند رہیں گے۔
ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ روزانہ قیمتوں کا نظام واپس لیا جائے، ڈیلرز کے کمیشن میں اضافہ کیا جائے اور مستقبل میں پالیسی سازی کے عمل میں پیٹرول پمپ مالکان کو بھی شامل کیا جائے۔
پی پی ڈی اے کا فیصلہ آج متوقع
دوسری جانب پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن (PPDA) نے کہا ہے کہ وہ بدھ کو اپنی ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں ہڑتال میں شمولیت یا نہ ہونے کا حتمی فیصلہ کرے گی۔
پی پی ڈی اے کے سینئر مشیر ملک خدا بخش نے کہا کہ روزانہ قیمتوں کا نظام قابل عمل نہیں اور ڈیلرز کے لیے ناقابل قبول ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وفاقی وزیر پیٹرولیم سے ملاقات کے بعد ایسوسی ایشن کے وفد نے اوگرا حکام سے بھی تفصیلی مذاکرات کیے، جہاں ڈیلرز کے تحفظات سنے گئے۔
ان کے مطابق اوگرا نے سات روز کی مہلت مانگی ہے تاکہ ڈیلرز کے مطالبات حکومت تک پہنچائے جا سکیں، اور اس دوران ایسوسی ایشن سے ہڑتال مؤخر کرنے کی درخواست بھی کی گئی۔
حکومت کا مؤقف
دوسری جانب وزارتِ پیٹرولیم نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ پی پی ڈی اے کے ساتھ مذاکرات کامیاب رہے اور ایسوسی ایشن نے حکومت کی پالیسیوں، خصوصاً آبنائے ہرمز کے بحران کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی برقرار رکھنے کی حکمت عملی کو سراہا۔
وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے وفد کو بتایا کہ نیا نظام بین الاقوامی تیل کی قیمتوں کی سات روزہ اوسط کی بنیاد پر کام کرے گا، تاہم اب قیمتوں کا اعلان ہفتہ وار کے بجائے روزانہ کیا جائے گا تاکہ شفافیت بڑھے، مارکیٹ میں بگاڑ کم ہو اور عالمی قیمتوں کا اثر فوری طور پر عوام تک منتقل کیا جا سکے۔
تاہم پی پی ڈی اے نے اخبارات میں اشتہار جاری کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ 24 گھنٹے بعد قیمتوں میں ردوبدل کے مجوزہ نظام پر نظرثانی کی جائے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت اور پیٹرول ڈیلرز کے درمیان اختلافات بدستور برقرار ہیں۔


