اسلام آباد (MNN): وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ حکومت بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم میں ’’مناسب ترمیم‘‘ کے لیے عدالت سے رجوع کرے گی، بالخصوص انہیں سرکاری ہسپتال کے بجائے نجی ہسپتال منتقل کرنے کے فیصلے کے حوالے سے۔
سپریم کورٹ نے منگل کے روز حکومت کو ہدایت کی تھی کہ زیر حراست سابق وزیراعظم عمران خان کو طبی معائنے اور علاج کے لیے دو روز کے اندر اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ علاج کے عمل میں طبی ماہرین اور سپیشلسٹ ڈاکٹرز کو شامل کیا جا سکتا ہے، تاہم اگر قیدیوں کے طبی معائنے کے لیے نجی ہسپتالوں کی سہولت فراہم کی جاتی ہے تو ملک بھر میں صحت کے مسائل سے دوچار ہزاروں دیگر قیدی بھی اسی نوعیت کی سہولت کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بہت سے طبی مسائل کا علاج جیل کے اندر بھی ممکن ہوتا ہے جبکہ ایسے قیدی جنہیں جیل سے باہر علاج کی ضرورت ہو، ان کے لیے سرکاری ہسپتالوں میں بھی ضروری طبی سہولیات موجود ہیں۔
وزیر قانون نے کہا کہ حکومت سپریم کورٹ سے درخواست کرے گی کہ عدالتی حکم میں ایسی مناسب ترمیم کی جائے جس سے اسے آئین اور قانون کے مقررہ دائرہ کار کے مطابق بنایا جا سکے۔
حکومت عدالتی حکم پر عمل کرے گی
دوسری جانب وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے سینیٹ کو بتایا کہ حکومت عمران خان کو اسلام آباد کے نجی ہسپتال منتقل کرنے سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم پر عمل کرے گی۔
پی ٹی آئی کے سینیٹرز نے عدالتی فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے پارٹی کے دیگر زیر حراست رہنماؤں کے لیے بھی ریلیف کا مطالبہ کیا۔
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ حکومت کو عدالتی فیصلوں کے خلاف جانے کا اختیار نہیں اور سپریم کورٹ کے فیصلے نے ملک میں عدلیہ کی آزادی کو ثابت کیا ہے۔
انہوں نے عدلیہ کے خلاف مبینہ توہین آمیز بیانات اور نفرت انگیز مہم کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو بھی ماضی میں عدالتوں سے ریلیف ملتا رہا ہے۔
پی ٹی آئی سینیٹر اعظم سواتی نے عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے حکومت کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ معاملات کو مل بیٹھ کر حل کرنا چاہیے۔
سینیٹر فیصل جاوید نے بھی سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے عدالت کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اب عدالتی حکم پر عمل درآمد انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے دیگر زیر حراست رہنماؤں کو بھی ریلیف دینے کا مطالبہ کیا۔
عمران خان، ان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان، مشال اعظم اور پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے، ذاتی معالجین، اہل خانہ اور وکلا تک رسائی اور ان کی طبی معلومات خاندان کو فراہم کرنے کی استدعا کی تھی۔
عدالت نے متعلقہ حکام کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال کی انتظامیہ سے مشاورت اور رابطے کے ساتھ ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت کی، جس میں فزیشن، جنرل سرجن، ماہر امراض داخلیہ، ماہر امراض چشم اور ماہر امراض قلب شامل ہوں گے۔
سڑکوں کی بندش سے معاشی نقصانات کا معاملہ سینیٹ میں اٹھا دیا گیا
سینیٹ اجلاس میں پی ٹی آئی سینیٹر محسن عزیز نے سڑکوں کی مسلسل بندش اور اس کے ملکی معیشت پر اثرات کا معاملہ بھی اٹھایا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال 10 روز سے جاری ہے، جس کے باعث خام مال کی ترسیل متاثر ہوئی اور صنعتی سرگرمیوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
محسن عزیز نے کرکٹ ٹیموں، غیر ملکی وفود اور دیگر مواقع پر سڑکوں اور موٹرویز کی بندش پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ طویل بندش سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں اور صنعت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
اس پر وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ ٹرانسپورٹرز کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد احتجاج ختم ہوا اور راستے کھول دیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ تشدد اور انتشار کی سیاست ملک کے مفاد میں نہیں اور اپوزیشن کو تنقید کے بجائے تعمیری تجاویز پیش کرنی چاہئیں۔
بلوچستان اور سابق فاٹا کے مسائل بھی زیر بحث
سینیٹ اجلاس میں بلوچستان کی سکیورٹی صورتحال پر بھی بحث ہوئی۔ طارق فضل چوہدری نے سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں پاک فوج اور پولیس نے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔
انہوں نے بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) پر دشمن ملک کے ایجنٹ کے طور پر کام کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی سرزمین سے ہر دہشت گرد کا خاتمہ قومی ذمہ داری ہے۔
سینیٹر عطاء الرحمٰن نے وفاقی بجٹ میں سابق فاٹا اور پاٹا کے ضم شدہ اضلاع کے لیے ٹیکس چھوٹ واپس لیے جانے کا معاملہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ ان اضلاع کے لیے اعلان کردہ 100 ارب روپے کی رقم بھی پوری نہیں کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ سابق قبائلی علاقوں کا خیبر پختونخوا میں انضمام عوام سے پوچھے بغیر کیا گیا اور انضمام کے بعد بھی مسائل میں کمی نہیں آئی جبکہ دہشت گردی کا مسئلہ بدستور موجود ہے۔
سینیٹر عطاء الرحمٰن نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اتحاد اور تعاون کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کو آئینی طور پر اپنا کردار ادا کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔
دریں اثنا، سینیٹ میں مسلسل دوسرے روز بھی کورم کا مسئلہ پیدا ہوگیا۔ گنتی کے دوران مطلوبہ کورم پورا نہ ہونے پر اجلاس جمعرات تک ملتوی کر دیا گیا۔
اجلاس کے آغاز میں سینیٹر شہادت اعوان کی پیش کردہ قرارداد منظور ہونے کے بعد وقفہ سوالات بھی معطل کر دیا گیا۔


