عمران خان کو شفا کے بجائے پمز منتقل کرنے کا فیصلہ سیکیورٹی اداروں نے کیا

0
6

اسلام آباد (ایم این این): وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کو اڈیالہ جیل سے سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کے بجائے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) لے جانے کا فیصلہ سیکیورٹی اداروں نے کیا تھا اور اس کا کوئی سیاسی مقصد نہیں تھا۔

سپریم کورٹ نے حکومت کو عمران خان کو طبی معائنے اور علاج کے لیے نجی شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی تھی۔ اطلاعات کے مطابق ہسپتال اور اس کے اطراف میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے سیکیورٹی کے وسیع انتظامات بھی کیے گئے تھے۔

جیو نیوز کے پروگرام نیا پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ عمران خان کو اڈیالہ جیل سے سیکیورٹی انتظامات کے تحت روانہ کیا گیا، تاہم راستے میں صورتحال کا دوبارہ جائزہ لینے کے بعد منصوبے میں تبدیلی کی گئی۔

ان کے مطابق سیکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے صورتحال کا جائزہ لے کر فیصلہ کیا کہ شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں امن و امان اور مطلوبہ سیکیورٹی کو مکمل طور پر یقینی بنانا ممکن نہیں۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کو پمز منتقل کرنے کا فیصلہ مکمل طور پر متعلقہ سیکیورٹی اداروں کی سفارش پر کیا گیا اور یہ کسی قسم کا سیاسی فیصلہ نہیں تھا۔

ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ اگر سیکیورٹی ادارے کسی مخصوص مقام کو محفوظ رکھنے کی صلاحیت یا گنجائش نہ ہونے کے بارے میں تشویش ظاہر کریں تو حکومت کو ان کی رائے کو مدنظر رکھنا ہوتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ہائی پروفائل شخصیات کی نقل و حرکت کے لیے متبادل انتظامات موجود ہوتے ہیں اور شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں پولیس، انتظامیہ اور طبی ٹیم پہلے ہی موجود تھی۔

عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان کے کئی گھنٹے شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں انتظار کرنے جبکہ عمران خان کا پمز میں طبی معائنہ ہونے کے سوال پر وزیر نے کہا کہ انہیں اس وقت ڈاکٹر فیصل سلطان کے شفا میں موجود ہونے کا علم نہیں تھا اور بعد میں اس بارے میں معلوم ہوا۔

ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے مؤقف اختیار کیا کہ ہسپتال کی آخری وقت میں تبدیلی کے علاوہ سپریم کورٹ کے دیگر احکامات پر من و عن عمل کیا گیا اور حکومت نے کسی قسم کی توہینِ عدالت نہیں کی۔

پی ٹی آئی کا حکومت پر توہینِ عدالت کا الزام

دوسری جانب پی ٹی آئی کے سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے حکومتی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل نہ کر کے حکومت نے سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی اور توہینِ عدالت کی ہے۔

انہوں نے طبی بورڈ کی تشکیل پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ عمران خان کی ہمشیرہ ڈاکٹر عظمیٰ خان طبی معائنہ کرنے والے بعض ڈاکٹروں سے واقف نہیں تھیں جبکہ عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان بھی میڈیکل بورڈ کا حصہ نہیں تھے۔

شیخ وقاص اکرم نے شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے باہر کسی بڑے سیکیورٹی خطرے کے حکومتی دعوے کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہاں پی ٹی آئی کارکنوں سے زیادہ میڈیا نمائندے موجود تھے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست دائر کیے جانے سے قبل بھی حکومت عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کر کے صورتحال بہتر بنا سکتی ہے۔

اس سے قبل وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا تھا کہ عمران خان کو 20 اور 21 اگست کی درمیانی شب پمز منتقل کیا گیا، جہاں ان کا تفصیلی طبی معائنہ کیا گیا، جس کے بعد انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔

ان کے مطابق ماہر امراض چشم، ماہر امراض قلب اور معالج پر مشتمل ڈاکٹروں کی ٹیم نے عمران خان کا معائنہ کیا اور انہیں طبی طور پر صحت مند قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عظمیٰ خان بھی معائنے کے وقت موجود تھیں۔

عطاء اللہ تارڑ کے مطابق شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے اطراف اور وہاں جانے والے راستے پر پیدا ہونے والی سیکیورٹی صورتحال کے باعث عمران خان کو پمز لے جانے کا فیصلہ کیا گیا۔

دریں اثنا، ڈاکٹر عظمیٰ خان نے بتایا کہ انہیں اور ڈاکٹر فیصل سلطان کو جمعرات کی رات اڈیالہ جیل پہنچنے کے لیے کہا گیا تھا۔ ان کے مطابق بعد ازاں دونوں کو الگ کر دیا گیا، ڈاکٹر فیصل سلطان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال کی جانب لے جایا گیا جبکہ انہیں پمز منتقل کیا گیا، جہاں وہ عمران خان کے طبی معائنے کے دوران ان سے ملیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں