تہران/اسلام آباد (ایم این این) پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورۂ ایران کو پاکستان اور ایران کے حکام نے مثبت اور نتیجہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے سفارتی نتائج جلد سامنے آئیں گے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے 24 اگست کو وزیر داخلہ محسن نقوی کے ہمراہ تہران کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سمیت ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت سے ملاقاتیں کیں۔
ملاقاتوں میں خطے میں امن، کشیدگی میں مزید اضافے کو روکنے اور تنازعات کے مذاکرات کے ذریعے حل کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ مذاکرات میں اہم بین الاقوامی آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ آزادانہ بحری آمدورفت کے لیے کھولنے کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔
ایرانی صدر کے دفتر اطلاعات و مواصلات کے نائب سربراہ سید مہدی طباطبائی نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورے کو انتہائی نتیجہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس دورے سے اہم سفارتی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ دورہ بے نتیجہ رہا، اور کہا کہ اس کے مثبت اور اچھے نتائج جلد سامنے آئیں گے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ہونے والی ملاقات کو انتہائی مثبت اور مفید قرار دیا۔ پاک فوج کی جانب سے دورے کے اختتام پر جاری بیان میں بھی دورۂ تہران کو مثبت اور کامیاب قرار دیا گیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق تہران نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے اپنا مؤقف اور شرائط پاکستانی ثالثوں کے ذریعے امریکا تک پہنچا دی ہیں۔ علاقائی ذرائع کے مطابق سفارتی کوششوں کا مقصد کشیدگی میں کمی، آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی اور واشنگٹن و تہران کے درمیان وسیع تر مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہے۔
قطر نے بھی ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی اور سفارتی کوششوں کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران پر عائد امریکی اقتصادی پابندیاں یکطرفہ ہیں اور دوحہ کشیدگی میں کمی کے لیے مذاکرات کی حمایت کرتا ہے۔
چین نے بھی ایران کے خلاف یکطرفہ پابندیوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بطور اہم تجارتی شراکت دار وہ اپنے جائز اقتصادی اور تجارتی مفادات کا تحفظ کرے گا۔
دوسری جانب امریکی میڈیا کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ مشرق وسطیٰ میں ان سفارتی مشنز پر عملے کی واپسی کی تیاری کر رہا ہے جنہیں ایران کے ساتھ جنگ اور کشیدگی کے دوران خالی یا محدود کر دیا گیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق سعودی عرب، قطر، عمان، کویت، عراق، اردن، لبنان اور اسرائیل میں امریکی سفارتی عملے کی تعداد میں دوبارہ اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
تاہم واشنگٹن کی ایران پالیسی میں بیک وقت سفارت کاری اور اقتصادی دباؤ کے اشارے موجود ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات رکھنے والے اداروں اور ممالک کے خلاف ثانوی پابندیوں کا دائرہ مزید وسیع کرنے پر بھی غور کر رہی ہے۔
ایرانی حکام نے نئی پابندیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے امریکی اقتصادی دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے مختلف پروگرام اور حکمت عملیاں تیار کر رکھی ہیں۔
ادھر فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پیرس میں ملاقات کے بعد ایران کے معاملے کا مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ خطے میں مزید کشیدگی کو روکا جا سکے اور علاقائی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔
مجموعی طور پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورۂ ایران پاکستان کی ثالثی اور وسیع تر علاقائی سفارتی کوششوں کا ایک اہم حصہ بنتا دکھائی دے رہا ہے، جبکہ ایرانی حکام نے واضح طور پر کہا ہے کہ اس دورے کے نتائج اور سفارتی پیش رفت جلد سامنے آئے گی۔


