اسلام آباد (ایم این این): اسلام آباد کے علاقے چٹھہ بختاور میں واقع سرحد یونیورسٹی آف سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی (SUSIT) میں طلبہ کے احتجاج کے دوران جھگڑے اور مبینہ فائرنگ کے واقعے کے بعد ایک سیکیورٹی اہلکار کو حراست میں لے لیا گیا ہے، جبکہ ذرائع کے مطابق اس کے خلاف فوجی قوانین کے تحت تادیبی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔
واقعہ مبینہ طور پر یونیورسٹی کے ایک سینئر عہدیدار کی برطرفی اور دیگر انتظامی معاملات کے خلاف طلبہ کے احتجاج کے دوران پیش آیا۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو میں ایک یونیفارم پہنے شخص کو نوجوانوں کے ایک گروپ کی جانب جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ یونیورسٹی کے طلبہ ہیں۔ اس کے ساتھ ایک خاتون بھی موجود ہے، جسے یونیورسٹی انتظامیہ سے وابستہ بتایا جا رہا ہے۔
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تلخ کلامی کے بعد صورتحال کشیدہ ہوگئی اور جھگڑا شروع ہوگیا۔ مبینہ طور پر اہلکار نے ایک شخص کو ڈنڈے سے مارا، جس کے بعد مشتعل افراد نے اسے گھیر لیا۔ صورتحال مزید بگڑنے پر اس نے مبینہ طور پر پستول نکال لیا۔
خاتون نے اسے روکنے کی کوشش کی، تاہم ویڈیو کے مطابق اہلکار نے بعد ازاں پستول ہوا میں بلند کر کے فائر کر دیا، جس پر موقع پر موجود پولیس اہلکاروں نے اسے گھیر لیا۔
بعد میں سامنے آنے والی ایک اور ویڈیو میں اسلام آباد پولیس کے ایک سینئر افسر کو طلبہ سے بات کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے طلبہ کو یقین دہانی کرائی کہ متعلقہ شخص کو یونیورسٹی سے باہر لے جایا گیا ہے اور اس کے خلاف متعلقہ فوجی ضابطوں کے تحت سخت اور فوری کارروائی کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور مزید کارروائی انکوائری کے نتائج کی روشنی میں کی جائے گی۔
خبر فائل کیے جانے تک اسلام آباد پولیس، متعلقہ سیکیورٹی اداروں یا یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا تھا۔


