تہران/اسلام آباد (ایم این این) عمان اور ایران نے آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمدورفت کی بحالی کے لیے ایک عارضی بحری راہداری قائم کرنے اور مستقبل میں اس اہم آبی گزرگاہ کے مستقل انتظام کے حوالے سے تہران میں اہم اور مثبت مذاکرات کیے ہیں۔
عمان کے وزیر خارجہ سید بدر البوسعیدی نے اپنے ایرانی ہم منصب ڈاکٹر عباس عراقچی سے ملاقات کے بعد مذاکرات کو تعمیری قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جلد آبنائے ہرمز کے لیے ایک عارضی بحری راہداری اور محفوظ آمدورفت کی بحالی کے عملی انتظامات کا اعلان کیا جائے گا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں عمانی وزیر خارجہ نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظام اور مستقل حل کے حوالے سے مذاکرات مناسب وقت پر آگے بڑھیں گے اور اس سلسلے میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے آرٹیکل 5 کے تحت پیش رفت کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ امن، تعاون، علاقائی استحکام اور بحری آمدورفت کی آزادی کے لیے خطے کے دیگر شراکت داروں سے بھی مشاورت کی جائے گی۔
ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ بیان کے مطابق دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے موجودہ صورتحال کے تناظر میں ایک مرحلہ وار فریم ورک پر تبادلہ خیال کیا، جو آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات کو عملی اور قابلِ عمل بنیادوں پر آگے بڑھانے میں مدد دے سکتا ہے۔
مجوزہ فریم ورک میں آبنائے ہرمز کے ذریعے ایک مشترکہ عارضی بحری راہداری کا قیام اور سمندری بارودی سرنگوں کی صفائی کے لیے مشترکہ منصوبہ شامل ہے۔
بیان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان تکنیکی مذاکرات جاری رہیں گے تاکہ مستقل بحری راہداری، آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظام، معلومات کے تبادلے، بحری ٹریفک مینجمنٹ اور متعلقہ بحری و سکیورٹی سہولیات کی فراہمی کے لیے ایک جامع طریقہ کار طے کیا جا سکے۔
دونوں وزرائے خارجہ نے خلیج فارس سے ملحقہ پانیوں کے ساحلی اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ مذاکرات اور مشاورت کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے قابل اطلاق بین الاقوامی قوانین اور ساحلی ریاستوں کی خودمختاری کے احترام کو ضروری قرار دیا۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین اور حساس بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، اور اس میں محفوظ اور معمول کی بحری آمدورفت کی بحالی علاقائی اور عالمی سفارتی کوششوں کا اہم مرکز بن چکی ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں موجود تمام بارودی سرنگیں ہٹا دی گئی ہیں یا انہیں تباہ کر دیا گیا ہے۔ ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ امریکی بحریہ نے ایران کو آگاہ کر دیا ہے کہ نئی بارودی سرنگیں بچھانے والے کسی بھی بحری جہاز کے خلاف فوری کارروائی کی جائے گی۔
ٹرمپ نے کہا کہ امریکا آبنائے ہرمز کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور بارودی سرنگیں بچھانے کے معاملے میں “زیرو ٹالرنس” پالیسی نافذ ہے۔
ایران نے تاہم آبنائے ہرمز کے حوالے سے امریکی مؤقف کو مسترد کیا ہے۔
ایرانی رکن پارلیمنٹ ابراہیم رضائی نے کہا کہ آبنائے ہرمز ایران کے کنٹرول میں ہے اور دنیا کی کوئی بھی فوجی طاقت ایران کے عزم کو شکست نہیں دے سکتی۔
ادھر ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے ایران اور امریکا کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی “سرنگوں” یا پسپائی کا معاہدہ نہیں بلکہ منطق اور شعور کی بنیاد پر کیا گیا فیصلہ ہے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی اسنا کے مطابق صدر پزشکیان نے کہا کہ سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کی اکثریت نے حکمت، وقار اور قومی مصلحت کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اس مفاہمتی یادداشت کو قبول کیا۔
تازہ عمان-ایران مذاکرات کو خطے میں کشیدگی کم کرنے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارتی اور بحری آمدورفت کی بحالی کے لیے ایک قابلِ قبول اور پائیدار طریقہ کار وضع کرنے کی وسیع تر سفارتی کوششوں کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔


