نیشنل پریس کلب کا بین الاقوامی میڈیا سے وابستہ پاکستانی صحافیوں پر این او سی پابندیوں پر نظرثانی کا مطالبہ

0
3

اسلام آباد (ایم این این) نیشنل پریس کلب اسلام آباد نے وزارت اطلاعات و نشریات کے ایکسٹرنل پبلسٹی (ای پی) ونگ کی جانب سے جاری کردہ نئی گائیڈ لائنز پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بین الاقوامی اور غیر ملکی میڈیا سے وابستہ پاکستانی صحافیوں کی نقل و حرکت کے لیے این او سی کی شرط پر نظرثانی کی جائے۔

ای پی ونگ کی جانب سے جاری گائیڈ لائنز کے مطابق سرکاری اور پیشہ ورانہ اسائنمنٹس کے سلسلے میں، بالخصوص اسلام آباد، لاہور اور کراچی سے باہر کام کے لیے، نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (این او سی) درکار ہوگا۔

گائیڈ لائنز میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں مقیم وہ تمام صحافی جو کسی بھی حیثیت میں غیر ملکی یا بین الاقوامی میڈیا اداروں کے ساتھ کام کر رہے ہیں، جن میں مستقل ملازمین، فری لانسرز، کنٹری بیوٹرز، اسٹرنگرز، ریٹینرز، اسپانسرز، فکسرز اور دیگر وابستہ افراد شامل ہیں، ان کی ای پی ونگ کے پورٹل پر رجسٹریشن لازمی ہوگی۔

مزید کہا گیا ہے کہ ای پی ونگ کے ساتھ پہلے سے رجسٹرڈ یا منظور شدہ غیر ملکی اور بین الاقوامی میڈیا کے نمائندوں کو اسلام آباد، لاہور اور کراچی کے علاوہ کسی دوسرے شہر میں سرکاری مقصد کے تحت خبر، رپورٹ، ویڈیو، فلم، ڈاکومنٹری یا سوشل میڈیا مواد تیار کرنے کے لیے لازمی این او سی حاصل کرنا ہوگا۔

نیشنل پریس کلب کے صدر عبدالرزاق سیال، سیکرٹری ڈاکٹر فرقان راؤ، فنانس سیکرٹری عابد عباسی اور گورننگ باڈی کے ارکان نے مشترکہ بیان میں کہا کہ آزاد اور خودمختار صحافت ہر جمہوری معاشرے کا بنیادی ستون ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ بین الاقوامی میڈیا اداروں سے وابستہ پاکستانی صحافیوں کی ملک کے مختلف حصوں تک رسائی کو این او سی سے مشروط کرنا درست، متوازن اور زمینی حقائق پر مبنی رپورٹنگ میں غیر ضروری رکاوٹیں پیدا کر سکتا ہے۔

این پی سی قیادت نے کہا کہ عالمی میڈیا کے ساتھ کام کرنے والے پاکستانی صحافیوں کی پیشہ ورانہ ذمہ داری ہے کہ وہ ملک بھر میں ہونے والی اہم پیش رفت سے آگاہ کریں۔ مختلف شہروں میں رپورٹنگ کے لیے پیشگی این او سی کی شرط بروقت رپورٹنگ میں تاخیر، واقعات تک رسائی میں مشکلات اور خبر کی ساکھ پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ اس قسم کی پابندیاں بین الاقوامی میڈیا سے وابستہ پاکستانی صحافیوں کے پیشہ ورانہ مستقبل اور روزگار کے مواقع کو بھی متاثر کر سکتی ہیں، جبکہ عالمی میڈیا میں پاکستان کی مؤثر نمائندگی بھی کمزور پڑنے کا خدشہ ہے۔

نیشنل پریس کلب نے نشاندہی کی کہ پاکستان ماضی میں اہم قومی واقعات، انسانی بحرانوں اور ترقیاتی منصوبوں کے دوران غیر ملکی اور بین الاقوامی میڈیا کی کوریج کا خیرمقدم کرتا رہا ہے۔

این پی سی قیادت نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس نوٹیفکیشن پر عمل درآمد سے قبل میڈیا اداروں، صحافتی تنظیموں، بین الاقوامی میڈیا سے وابستہ مقامی صحافیوں اور دیگر متعلقہ فریقوں سے جامع مشاورت کی جائے۔

بیان میں پریس کی آزادی، ذمہ دارانہ صحافت اور عوامی مفاد میں معلومات کے حصول اور ترسیل کے آئینی حق کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ قومی سلامتی اور آزادی صحافت کے درمیان متوازن حکمت عملی اختیار کی جانی چاہیے۔

نیشنل پریس کلب اسلام آباد نے اپنے ارکان اور ملک بھر میں پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرنے والے تمام صحافیوں سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسے ماحول کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گا جہاں میڈیا سے وابستہ افراد پاکستان کے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے آزادانہ، محفوظ اور ذمہ داری کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے سکیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں