شہباز شریف کی ایرانی اور ازبک صدور سے ملاقاتیں، علاقائی امن، تجارت اور رابطوں پر زور

0
2

بشکیک (MNN)؛ وزیراعظم شہباز شریف نے شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے سربراہان مملکت کے اجلاس کے موقع پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور ازبکستان کے صدر شوکت مرزیوئیف سے اہم ملاقاتیں کیں، جن میں علاقائی امن، دوطرفہ تعاون، تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی رابطوں کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیراعظم شہباز شریف کرغزستان کے صدر صدر نورگوزوئیوچ ژاپاروف کی دعوت پر 31 اگست سے 2 ستمبر تک تین روزہ سرکاری دورے پر بشکیک پہنچے ہیں۔

ایس سی او اجلاس میں چین، روس، ایران، ترکیہ، بھارت اور دیگر رکن ممالک کے رہنما شریک ہیں، جبکہ علاقائی تنظیم اپنی 25ویں سالگرہ بھی منا رہی ہے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات

وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ہونے والی ملاقات کو خوشگوار اور گرمجوش قرار دیا گیا۔

وزیراعظم آفس کے مطابق دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ایران کے درمیان قریبی اور دیرینہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔

دونوں رہنماؤں نے ایرانی صدر کے رواں سال پاکستان کے دورے کے دوران ہونے والے فیصلوں کی روشنی میں باہمی تعاون کو تمام شعبوں میں فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔

ملاقات میں علاقائی رابطوں، عوامی روابط اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان علاقائی امن کے لیے اپنی مخلصانہ کوششیں جاری رکھے گا۔

انہوں نے چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے حالیہ دورہ تہران اور وہاں ہونے والی تعمیری ملاقاتوں کو علاقائی امن و استحکام کے لیے مثبت قرار دیا۔

وزیراعظم نے دیرپا امن اور استحکام کے لیے تحمل اور مسلسل سفارتی رابطوں کی اہمیت پر زور دیا۔

انہوں نے 18 جون کو امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت ہونے والی پیش رفت کو آگے بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور اسے خطے میں دیرپا امن کے لیے ایک اہم راستہ قرار دیا۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے علاقائی امن و سلامتی کے لیے پاکستان کی مسلسل سفارتی کوششوں کو سراہا۔

انہوں نے پاکستان اور ایران کے تعلقات کو صدیوں پر محیط مشترکہ تاریخ، ثقافت اور مذہبی رشتوں پر مبنی قرار دیتے ہوئے مختلف شعبوں میں تعاون مزید بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔

ایرانی صدر نے موجودہ عالمی اور علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مسلم ممالک کے درمیان اتحاد کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے صدر پزشکیان کو پاکستان کے سرکاری دورے کی دعوت دی، جبکہ ایرانی صدر نے وزیراعظم کو دسمبر 2026 میں تہران میں ہونے والے اقتصادی تعاون تنظیم (ECO) کے اجلاس میں شرکت کی دعوت دی۔

ملاقات میں وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی اور سیکریٹری خارجہ سفیر آمنہ بلوچ شریک تھیں، جبکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

ازبک صدر سے تجارت اور رابطوں پر بات چیت

وزیراعظم شہباز شریف نے ازبکستان کے صدر شوکت مرزیوئیف سے ملاقات میں دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری، علاقائی رابطوں اور اقتصادی تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا۔

وزیراعظم نے اعلیٰ سطح پر کیے گئے فیصلوں پر بروقت عملدرآمد کی اہمیت پر زور دیا۔

انہوں نے پاکستان اور ازبکستان کے درمیان دوطرفہ تجارت کو 2029 تک 2 ارب ڈالر تک بڑھانے کے مشترکہ ہدف کا اعادہ کیا۔

وزیراعظم نے توسیع شدہ ترجیحی تجارتی معاہدے پر مؤثر عملدرآمد، کاروباری برادریوں کے درمیان رابطوں میں اضافے اور مشترکہ سرمایہ کاری کے منصوبوں کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔

علاقائی رابطوں کو مشترکہ اسٹریٹجک ترجیح قرار دیتے ہوئے وزیراعظم نے ازبکستان، افغانستان، پاکستان ریلوے منصوبے کی اہمیت اجاگر کی۔

انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان رابطوں کو مضبوط بنانے کے ساتھ ازبکستان کو پاکستان کی سمندری بندرگاہوں تک رسائی فراہم کرے گا۔

وزیراعظم نے مشترکہ فزیبلٹی اسٹڈی پر جلد پیش رفت اور موجودہ ملٹی ماڈل ٹرانسپورٹ کوریڈورز کے زیادہ مؤثر استعمال پر زور دیا۔

انہوں نے ازبک تجارت کو پاکستان کی بندرگاہوں اور ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر کے ذریعے سہولت فراہم کرنے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔

دونوں رہنماؤں نے صنعت، زراعت، ادویات سازی، ٹیکسٹائل، معدنیات، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، تعلیم، ثقافت، دفاع اور سلامتی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی بات چیت کی۔

وزیراعظم نے دونوں ممالک کے درمیان فضائی رابطوں میں اضافے اور تاشقند سے کراچی کے درمیان براہ راست پروازوں کے آغاز کی کوششوں کی حمایت کی۔

وزیراعظم نے ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کی پاکستان کی آئندہ چیئرمین شپ کے لیے ازبکستان کی حمایت کو بھی سراہا۔

پاکستان سن 2026-27 کے لیے ایس سی او کی سربراہی سنبھالے گا

وزیراعظم شہباز شریف ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کے اجلاس اور ایس سی او پلس سمٹ میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچے ہیں۔

دورے کے دوران پاکستان 2026-27 کے لیے ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کی چیئرمین شپ سنبھالے گا۔

اگلے سال ایس سی او سربراہی اجلاس کی میزبانی اسلام آباد کرے گا۔

وزیراعظم اجلاس سے خطاب کریں گے اور اہم علاقائی و عالمی امور پر پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے۔

پاکستانی وفد میں وزیر تجارت جام کمال خان، وزیر مواصلات عبدالعلیم خان اور وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ شامل ہیں۔

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی بشکیک میں ایس سی او اجلاس کے لیے پاکستانی وفد میں شامل ہوں گے۔

کرغزستان کے صدر سے بھی ملاقات ہوگی

وزیراعظم شہباز شریف اپنے دورے کے دوران کرغزستان کے صدر صدر ژاپاروف سے بھی ملاقات کریں گے۔

دونوں رہنما پاکستان اور کرغزستان کے درمیان تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیں گے اور تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، علاقائی رابطوں، تعلیم، سیاحت اور عوامی روابط کے فروغ کے امکانات پر بات چیت کریں گے۔

دونوں ممالک کے رہنما علاقائی اور عالمی امور کے علاوہ مختلف علاقائی اور بین الاقوامی فورمز پر تعاون پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔

پاکستان اور کرغزستان کے درمیان مشترکہ تاریخ، مذہبی اور ثقافتی رشتوں کی بنیاد پر گرمجوش اور برادرانہ تعلقات قائم ہیں۔

دورے سے دونوں ممالک کے درمیان سیاسی خیرسگالی کو عملی تعاون میں تبدیل کرنے اور باہمی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کی توقع ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں