تہران/مسقط (MNN)؛ آبنائے ہرمز سے متعلق ممکنہ معاہدوں اور علاقائی سکیورٹی تعاون پر بات چیت کے لیے ایران اور خلیجی عرب ممالک کا عمان میں پیر کو ہونے والا اجلاس بعض علاقائی ممالک کی درخواست پر ملتوی کردیا گیا۔
ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق اجلاس ملتوی کرنے کا فیصلہ تہران اور مسقط نے مشترکہ طور پر کیا۔
عمان کے وزیر خارجہ نے بھی تصدیق کی کہ پیر کو صلالہ میں ہونے والا علاقائی اجلاس اتفاق رائے کے مفاد میں ملتوی کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمان خطے میں استحکام اور دیرپا تعاون کے لیے مذاکرات کے فروغ کے عزم پر قائم ہے۔
عمان طویل عرصے سے خطے میں ثالثی کا کردار ادا کرتا آرہا ہے اور ایران، امریکا سمیت دیگر مشرق وسطیٰ کے ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں میں بھی کردار ادا کرتا رہا ہے۔
اجلاس کا التوا ایسے وقت میں ہوا ہے جب خطے میں کشیدگی بدستور بلند ہے اور اہم بحری راستوں، خصوصاً آبنائے ہرمز اور باب المندب میں آمدورفت متاثر ہونے کے خدشات موجود ہیں۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے اس سے قبل بتایا تھا کہ صلالہ میں ہونے والے مذاکرات کا مقصد خلیج میں سکیورٹی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔ سرکاری خبر رساں ادارے ارنا نے مجوزہ اجلاس کو ’’علاقائی سکیورٹی تعاون کے فریم ورک کے قیام کی جانب پہلا قدم‘‘ قرار دیا تھا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہونے تھے جب ایران اور امریکا کے درمیان آبنائے ہرمز کے معاملے پر کشیدگی جاری ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی تیل اور گیس کی تجارت کے لیے انتہائی اہم بحری راستہ ہے۔
آبنائے ہرمز کھولنے کو اسلام آباد مفاہمتی یادداشت سے مشروط کردیا
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران کی جانب سے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کا فیصلہ امریکا کی جانب سے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (MoU) میں کیے گئے وعدوں پر واپس آنے سے مشروط ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے اسنا کے مطابق عراقچی نے کہا کہ ایران اور عمان کے درمیان بات چیت محض آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے بجائے اس کے ذریعے نئے بحری راستے کے قیام پر مرکوز تھی۔
انہوں نے کہا کہ ایران عمان کے ساتھ طے پانے والی مفاہمت اور مجوزہ بحری راستے کے منصوبے کی تفصیلات متعلقہ ممالک کے ساتھ شیئر کرے گا۔
ایرانی صدر کا پاکستان کے امن کے لیے کردار کو سراہنا
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے پاکستان کو ایک دوست ہمسایہ ملک قرار دیتے ہوئے امن کے فروغ کے لیے اس کے کردار کو سراہا۔
عرب میڈیا کو انٹرویو میں پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے بعد ایران کے ساتھ نئے مذاکرات کے مطالبات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے مطالبات کو سمجھنا مشکل ہے۔
پزشکیان نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے نئی دہلی میں برکس سربراہ اجلاس کے موقع پر ابوظہبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان سے اچھی ملاقات کی۔
انہوں نے کہا کہ دونوں فریقوں نے ماضی کو پیچھے چھوڑ کر مستقبل میں مشترکہ تعاون پر توجہ مرکوز کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
ایرانی صدر کے مطابق دونوں جانب سے اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ماضی کو ایک طرف رکھ کر مستقبل کی طرف دیکھا جائے اور مل کر مشترکہ مستقبل تعمیر کیا جائے۔


