لاہور (MNN)؛ پاکستان ہاکی فیڈریشن (PHF) نے بدھ کو ایشین ہاکی فیڈریشن (AHF) سے باضابطہ طور پر مطالبہ کیا ہے کہ مینز ایشین چیمپئنز ٹرافی 2026 کو بھارت سے کسی دوسرے مقام پر منتقل کیا جائے یا کم از کم پاکستان کے تمام میچز کسی غیر جانب دار مقام پر کرائے جائیں۔
پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر محمودالدین احمد وانی کے مطابق یہ درخواست پاکستان اور بھارت کے درمیان موجودہ حساس صورتحال اور سکیورٹی خدشات کے پیش نظر کی گئی ہے تاکہ قومی کھلاڑیوں اور آفیشلز کو محفوظ، باوقار اور سازگار ماحول فراہم کیا جاسکے۔
وانی نے کہا کہ پاکستان ایشین چیمپئنز ٹرافی اور عالمی سطح پر ہاکی کے فروغ کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔ ان کے مطابق پاکستان بھارت سمیت تمام انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن (FIH) کے رکن ممالک کے خلاف کھیلنے کے لیے تیار ہے، تاہم کھیلوں کو سیاست سے الگ رکھنے کے اصول پر بھی قائم ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایشین ہاکی فیڈریشن پاکستان کی نیوٹرل وینیو کی تجویز کو مثبت انداز میں زیر غور لائے گی تاکہ قومی ٹیم ٹورنامنٹ میں مکمل اور بلا تعطل شرکت کرسکے۔
27 اکتوبر سے 5 نومبر تک ٹورنامنٹ
مینز ایشین چیمپئنز ٹرافی 2026 کا انعقاد 27 اکتوبر سے 5 نومبر تک بھارت کے شہروں جالندھر اور موہالی میں شیڈول ہے۔
جالندھر میں 27 اکتوبر سے 2 نومبر تک افتتاحی تقریب اور لیگ مرحلے کے تمام میچز کھیلے جائیں گے، جبکہ سیمی فائنلز 4 نومبر اور فائنل 5 نومبر کو موہالی میں ہوگا۔
ٹورنامنٹ میں پاکستان، بھارت، چین، جاپان، ملائیشیا اور جنوبی کوریا کی ٹیمیں شرکت کریں گی۔
پاکستان، بھارت میچ یکم نومبر کو شیڈول تھا
پاکستان ہاکی فیڈریشن کا تازہ فیصلہ بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ بھگوانت مان کے اس اعلان کے چند روز بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان ٹورنامنٹ میں شرکت کرے گا۔
اعلان کردہ شیڈول کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان میچ یکم نومبر کو جالندھر میں ہونا تھا۔
تاہم وانی نے 14 ستمبر کو واضح کیا تھا کہ پاکستان کی بھارت روانگی حکومت کی منظوری سے مشروط ہے اور فیڈریشن حکومت کے فیصلے پر عمل کرے گی۔
اب PHF نے بھارت جانے کی حتمی تصدیق کے بجائے ٹورنامنٹ یا پاکستان کے میچز کو نیوٹرل وینیو منتقل کرنے کی باضابطہ درخواست کردی ہے۔
ہاکی انڈیا نے وینیو تبدیل کرنے سے انکار کردیا
ہاکی انڈیا کے سیکریٹری جنرل اور ایشین ہاکی فیڈریشن کے نائب صدر بھولا ناتھ سنگھ نے پاکستان کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹورنامنٹ کے مقام میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی اور اگر پاکستان کو شرکت کرنی ہے تو اسے بھارت آکر کھیلنا ہوگا۔
اب پاکستان کی شرکت اور اس کے میچز کے مقام سے متعلق آئندہ فیصلہ ایشین ہاکی فیڈریشن کے سامنے ہے۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان کھیلوں کے تعلقات میں موجودہ کشیدگی کے باعث دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ مقابلے محدود ہیں، تاہم دونوں ٹیمیں بعض کثیر ملکی بین الاقوامی مقابلوں میں شریک ہوتی رہی ہیں۔


