حوثی حملوں میں شدت، پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کا مکہ دفاعی معاہدہ فعال کرنے کا فیصلہ

0
2

اسلام آباد/تہران/انقرہ (MNN)؛ سعودی عرب پر حوثی حملوں میں حالیہ شدت کے بعد پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو عملی طور پر فعال کرنے کی سمت میں اقدامات تیز کر دیے ہیں، جبکہ اسلام آباد نے خطے میں کشیدگی کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے تہران کے ساتھ سفارتی رابطے بھی بڑھا دیے ہیں۔

پاکستان کے دفتر خارجہ نے جمعرات کو واضح کیا کہ اسلام آباد سعودی عرب کے ساتھ دوطرفہ دفاعی معاہدے اور پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر اس کی روح اور منشا کے مطابق عمل درآمد کے لیے پرعزم ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے کہا کہ ممکنہ کارروائی کی نوعیت، مقام، وقت اور استعمال ہونے والی فورس سے متعلق تفصیلات فی الحال ظاہر نہیں کی جا سکتیں کیونکہ یہ معاملات آپریشنل رازداری سے متعلق ہیں۔

مکہ دفاعی معاہدہ گزشتہ ماہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے طے کیا تھا، جس کے تحت تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور مشترکہ سلامتی کے لیے میکنزم تشکیل دینے پر اتفاق کیا گیا۔ معاہدے کے مطابق ایک رکن پر مسلح حملے کو تینوں کے خلاف حملہ تصور کرنے کا اصول شامل ہے۔

خواجہ آصف: مکہ معاہدے پر عملدرآمد کا وقت آ گیا

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ حالیہ حوثی حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال میں مکہ دفاعی معاہدے پر عملدرآمد کا وقت آ گیا ہے۔

جیو نیوز سے گفتگو میں خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب اور اس کے مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے اور یہ ذمہ داری معاہدے کے بغیر بھی پاکستان کے لیے اہم ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے سعودی عرب کی جانب سے حوثی حملوں سے متعلق تحفظات ایران تک پہنچائے ہیں۔ ان کے مطابق ایران ایک ریاست کی حیثیت سے خطے میں ایک اور محاذ کھولنے سے گریز کرے گا کیونکہ وہ پہلے ہی ایک وسیع علاقائی تنازع میں شامل ہے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان کی کوشش ہے کہ موجودہ جنگ مزید ممالک اور علاقوں تک نہ پھیلے۔

عاصم منیر کا ایران سے حوثیوں پر اثر و رسوخ استعمال کرنے کا مطالبہ

اسی سلسلے میں چیف آف ڈیفنس فورسز و چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے چین کے دورے کے دوران ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا۔

پاکستانی حکام کے مطابق عاصم منیر نے ایران پر زور دیا کہ وہ اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے حوثیوں کو سعودی عرب کی توانائی تنصیبات اور اقتصادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے سے روکے۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان علاقائی صورتحال، حوثی حملوں اور امریکہ اور ایران کے درمیان تعطل کا شکار براہِ راست مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی کوششوں پر بھی بات ہوئی۔

ایرانی سرکاری میڈیا نے بھی دونوں رہنماؤں کے درمیان رابطے کی تصدیق کی اور کہا کہ گفتگو میں علاقائی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور زیر بحث آئے۔ عراقچی نے ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان سے بھی ٹیلی فون پر علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

ایرانی حکام ماضی میں یہ مؤقف اختیار کر چکے ہیں کہ تہران حوثیوں کے فیصلوں میں براہِ راست مداخلت نہیں کرتا اور یمنی گروپ اپنے مفادات کے مطابق آزادانہ طور پر کارروائی کرتا ہے۔

ترک انٹیلی جنس چیف کی اسلام آباد آمد، اہم ملاقاتیں

اسی دوران ترکیہ کی نیشنل انٹیلی جنس آرگنائزیشن کے سربراہ ابراہیم قالن افغانستان کے دورے کے بعد اسلام آباد پہنچے، جہاں انہوں نے پاکستانی اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں۔

ابراہیم قالن نے فیلڈ مارشل عاصم منیر، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک اور وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی۔

ترک سکیورٹی ذرائع کے مطابق ملاقاتوں میں پاک ترک تعلقات، دوطرفہ تعاون، علاقائی سلامتی اور مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

فریقین نے ایران کے ساتھ جاری جنگ، اس کے سیاسی، سلامتی اور معاشی اثرات اور تنازع کے مزید ممالک تک پھیلنے کے خطرات کا بھی جائزہ لیا۔

یمن اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ کشیدگی اور علاقائی استحکام کو درپیش خطرات بھی گفتگو کا حصہ رہے، جبکہ مکہ دفاعی معاہدے کو علاقائی امن و استحکام کے لیے مشترکہ تعاون کے اہم فریم ورک کے طور پر اجاگر کیا گیا۔

سعودی عرب میں ڈرون واقعات، ایک جاں بحق، پاکستانی زخمی

سعودی عرب میں ڈرون حملوں اور انہیں روکنے کے واقعات نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔

سعودی حکام کے مطابق رواں ہفتے مکہ مکرمہ کے قریب ایک ڈرون کو سعودی فضائی دفاع نے مقدس شہر کی ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے تباہ کر دیا تھا۔ حوثیوں نے مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کے سعودی الزام کی تردید کی ہے۔

جمعرات کو طائف میں ایک اور ڈرون کو روک کر تباہ کیا گیا، جس کا ملبہ گرنے سے ایک یمنی شہری جاں بحق اور ایک سعودی خاتون اور ایک پاکستانی شہری زخمی ہوئے۔ سعودی سول ڈیفنس کے مطابق پاکستانی شہری کی حالت تشویشناک ہے، جبکہ متعدد عمارتوں اور گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی اہداف پر حملوں کے دعوے کیے گئے ہیں جبکہ سعودی فضائی دفاع ڈرونز کو روکنے کی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ صورتحال نے سعودی عرب کی توانائی تنصیبات اور اہم بحری راستوں کے تحفظ کے حوالے سے خدشات مزید بڑھا دیے ہیں۔

پاکستان سعودی خودمختاری کے دفاع کے لیے پرعزم

دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع میں غیر متزلزل طور پر سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے۔

تاہم اسلام آباد نے ساتھ ہی کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔ دفتر خارجہ نے باب المندب کی صورتحال کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے حوثیوں پر زور دیا کہ وہ اپنی کارروائیاں روکیں۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ اس کی ترجیح خطے میں امن و استحکام کا قیام اور تنازعات کا حل مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے تلاش کرنا ہے۔

امریکہ، ایران مذاکرات کی بحالی کے لیے بھی کوششیں

فیلڈ مارشل عاصم منیر اور عباس عراقچی کے درمیان گفتگو میں امریکہ اور ایران کے درمیان تعطل کا شکار براہِ راست مذاکرات کی بحالی کے امکانات بھی زیر بحث آئے۔

پاکستان نے موجودہ جنگ کے دوران امریکہ اور ایران دونوں سے رابطے برقرار رکھے ہیں اور مذاکرات کی بحالی کے لیے سفارتی کوششیں کی ہیں۔ چین بھی کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی طرف واپسی پر زور دے رہا ہے۔

چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے ایران اور امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی طرف واپس آئیں اور بامعنی مذاکرات شروع کریں۔

موجودہ صورتحال میں آبنائے ہرمز، باب المندب اور عالمی توانائی کی سپلائی کو لاحق خطرات بھی علاقائی بحران کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔

پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے لیے موجودہ صورتحال میں ایک طرف مکہ دفاعی معاہدے کے تحت باہمی دفاعی تعاون کا فریم ورک موجود ہے جبکہ دوسری جانب اسلام آباد کشیدگی کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے ایران اور دیگر فریقوں کے ساتھ سفارتی رابطے جاری رکھے ہوئے ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں