اسلام آباد (MNN)؛ سپریم کورٹ کی جانب سے انسانی حقوق کی وکیل ایمان زینب مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کی سزائیں معطل کرکے ضمانت پر رہائی کا حکم دیے جانے کے چند گھنٹے بعد اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے پولیس کی جانب سے دونوں کے 30 روزہ جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔
دونوں ملزمان کو اسلام آباد کے کوہسار تھانے میں درج مقدمے میں اے ٹی سی جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین کے سامنے پیش کیا گیا۔
سپریم کورٹ کے رہائی کے حکم کے فوراً بعد ایس ایس پی آپریشنز کی قیادت میں اسلام آباد پولیس کی نفری اڈیالہ جیل پہنچی اور ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو کوہسار تھانے میں درج مقدمے میں دوبارہ گرفتار کرلیا۔ بعد ازاں پولیس نے دونوں کو رات گئے انسدادِ دہشت گردی عدالت میں پیش کیا۔
سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ دونوں کو جیل میں رکھنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ایمان مزاری کے وکیل ریاست علی آزاد نے بھی تصدیق کی کہ اسلام آباد پولیس کی بڑی نفری دونوں کو کوہسار تھانے منتقل کر گئی۔
کوہسار پولیس اسٹیشن میں یہ مقدمہ 22 مارچ 2025 کو سٹی مجسٹریٹ غلام مرتضیٰ چانڈیو کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔ ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ پر حکومت مخالف نعرے لگانے اور سڑکیں بند کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے اور دونوں کو ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا تھا۔
مقدمے میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 188، 341، 506، 353 اور 186 شامل کی گئی تھیں، جن کا تعلق سرکاری حکم کی خلاف ورزی، راستہ روکنے، دھمکی دینے، سرکاری اہلکار کو فرائض کی انجام دہی سے روکنے اور سرکاری اہلکار کے کام میں رکاوٹ ڈالنے سے ہے۔ مقدمہ درج کرتے وقت انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی کوئی دفعہ شامل نہیں کی گئی تھی۔
سپریم کورٹ نے سزائیں معطل کردیں
اس سے قبل سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ، جس میں جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے سزاؤں کی معطلی سے انکار کے خلاف دائر اپیلوں پر سماعت کرتے ہوئے دونوں کی سزائیں معطل کردیں۔
سپریم کورٹ نے دونوں کو 2،2 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا اور قرار دیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت اپیلوں کے حتمی فیصلے تک دونوں ضمانت پر رہیں گے۔
تحریری حکم میں سپریم کورٹ نے ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی درخواستوں کو اپیلوں میں تبدیل کرتے ہوئے 24 جنوری کی سزا کے حکم پر عملدرآمد معطل کردیا۔
عدالت نے اس امر کو بھی مدنظر رکھا کہ دونوں پریکٹسنگ وکلا ہیں اور انہیں 2،2 لاکھ روپے کے ذاتی مچلکوں کے عوض رہا کرنے کا حکم دیا۔
سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔
17 سال قید کی سزا کا پس منظر
ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو اس سے قبل 23 جنوری کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر احتجاج اور اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر سے مبینہ بدسلوکی کے مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا۔
گرفتاری کے اگلے ہی روز اسلام آباد کی سیشن عدالت نے سوشل میڈیا پوسٹس سے متعلق ایک الگ مقدمے میں دونوں کو مجموعی طور پر 17 سال قید کی سزا سنائی تھی۔
عدالت نے ایمان مزاری کو سائبر دہشت گردی کی دفعہ 10 کے تحت 10 سال، جرم کی تشہیر سے متعلق دفعہ 9 کے تحت 5 سال اور جھوٹی و جعلی معلومات سے متعلق دفعہ 26-A کے تحت 2 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ تمام سزائیں بیک وقت چلانے کا حکم دیا گیا تھا۔
یہ مقدمہ 12 اگست 2025 کو این سی سی آئی اے اسلام آباد کے ایک تفتیشی افسر کی جانب سے ایف آئی اے سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر میں دائر شکایت کی بنیاد پر شروع ہوا تھا۔
استغاثہ کا الزام تھا کہ ایمان مزاری نے ایسے بیانیے پھیلائے اور ان کی تشہیر کی جو مبینہ طور پر دشمن دہشت گرد گروہوں اور کالعدم تنظیموں سے مطابقت رکھتے تھے، جبکہ ان کے شوہر پر ان کی بعض سوشل میڈیا پوسٹس دوبارہ شیئر کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔
ایف آئی آر میں یہ بھی الزام لگایا گیا تھا کہ دونوں نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں لاپتا افراد کے معاملات کا ذمہ دار سکیورٹی فورسز کو قرار دیا اور کالعدم تنظیموں، جن میں بلوچ لبریشن آرمی (BLA) اور تحریک طالبان پاکستان (TTP) شامل ہیں، کے خلاف مسلح افواج کی کارروائی کی صلاحیت پر سوال اٹھایا۔
دونوں پر 30 اکتوبر 2025 کو فردِ جرم عائد کی گئی جبکہ بعد ازاں عدالت نے ان کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے۔ متعدد مرتبہ پیش نہ ہونے پر وارنٹ دوبارہ بھی جاری کیے گئے۔
دونوں نے فروری میں اپنی سزاؤں کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ ہائی کورٹ نے فریقین کو نوٹس جاری کیے تاہم ابتدائی طور پر سزاؤں کی معطلی سے انکار کردیا۔
بعد ازاں ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا اور سزاؤں کی معطلی کے ساتھ مقدمے کی جلد سماعت کی درخواست کی۔
سپریم کورٹ اس سے قبل بھی اسلام آباد ہائی کورٹ کو سزاؤں کی معطلی سے متعلق درخواستوں پر جلد فیصلہ کرنے کی ہدایت کر چکی تھی۔ سماعت کے دوران وکیل صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ مقدمے کی متعدد بار سماعت ملتوی ہونے سے معاملہ تاخیر کا شکار ہوا۔
سپریم کورٹ نے بالآخر دونوں کی سزائیں معطل کرتے ہوئے انہیں اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت اپیلوں کے حتمی فیصلے تک ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا۔
تاہم اے ٹی سی کے تازہ حکم کے بعد دونوں کو کوہسار تھانے کے الگ مقدمے میں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے۔


