اسلام آباد (MNN)؛ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے جمعہ کو خبردار کیا ہے کہ حکومت اسلام آباد کی جانب مارچ کی کسی بھی کوشش کو ’’ہر ممکن طریقے‘‘ سے روکے گی، جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف توہینِ عدالت سمیت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
وزیر داخلہ کا بیان اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کے 27 ستمبر کو اسلام آباد میں احتجاج اور لانگ مارچ سے متعلق 37 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ سیاسی جماعتوں کو پُرامن اجتماع اور سیاسی اختلاف کا آئینی حق حاصل ہے، تاہم یہ حق آئین اور قانون کے تابع ہے اور اس کے استعمال سے دوسرے شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر نہیں ہونے چاہئیں۔
آئی ایچ سی نے قرار دیا کہ کسی سیاسی جماعت کو عوامی سڑکوں، شاہراہوں، انٹرچینجز، ٹول پلازوں یا سرکاری عمارتوں پر قبضہ یا انہیں بند کرنے کا قانونی اختیار حاصل نہیں۔ عدالت نے صوبائی حکومتوں کو یہ بھی ہدایت کی کہ اسلام آباد مارچ کے لیے سرکاری وسائل، سرکاری گاڑیاں یا مشینری استعمال نہ کی جائے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ عدالت کے تفصیلی فیصلے کے بعد قانونی پوزیشن واضح ہوگئی ہے۔ ان کے مطابق اگر کوئی شخص عدالتی حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سڑکوں پر نکلتا ہے تو پہلے اس کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کی جائے گی۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں اور صوبائی حکام کو فیصلے سے آگاہ کردیا گیا ہے اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔
انہوں نے سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے اپنے شہروں اور صوبوں میں پُرامن احتجاج کریں، تاہم اسلام آباد کو بند کرنے یا کسی دوسرے صوبے میں مسلح یا پُرتشدد انداز میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
محسن نقوی نے ماضی کے احتجاجی واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بعض مواقع پر قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو جانی نقصان اٹھانا پڑا اور ہتھیار بھی استعمال ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے سکیورٹی اداروں کو واضح قواعد و ضوابط فراہم کیے گئے ہیں۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ اگر کسی غیر قانونی مارچ کے دوران کوئی جانی نقصان ہوا تو منتظمین کو اس کا ذمہ دار قرار دیا جائے گا۔ انہوں نے اپوزیشن رہنماؤں پر بھی زور دیا کہ وہ احتجاج کے فیصلے پر نظرثانی کریں اور سیاسی معاملات آئینی اور قانونی طریقہ کار کے ذریعے حل کریں۔
انہوں نے سیاسی سرگرمی اور مسلح جتھوں کی شکل میں اسلام آباد آنے میں فرق واضح کرتے ہوئے کہا کہ پُرامن سیاسی احتجاج الگ معاملہ ہے، جبکہ ہتھیاروں کے ساتھ لوگوں کو منظم کرکے دارالحکومت کی جانب پیش قدمی کرنا مختلف نوعیت کی کارروائی ہے۔
آئی ایچ سی کا تفصیلی فیصلہ
اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں قرار دیا کہ شہریوں کے بنیادی حقوق، جن میں زندگی، آزادی، عزت، نقل و حرکت اور ضروری سہولیات تک رسائی شامل ہے، سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے متاثر نہیں کیے جاسکتے۔
عدالت نے قرار دیا کہ عوامی سڑکیں شہریوں کی آزادانہ آمدورفت کے لیے ہیں اور انہیں سیاسی دباؤ یا مستقل دھرنوں کے لیے بند نہیں کیا جاسکتا۔ عدالت کے مطابق مسلح مارچ یا سرکاری مشینری استعمال کرکے کیا جانے والا احتجاج آئینی تحفظ کا حقدار نہیں۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ایسے سرکاری افسران جو شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کا باعث بنیں، انہیں آئین اور اپنے حلف کی خلاف ورزی کے نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
کوہاٹ حملہ
محسن نقوی نے جمعہ کو کوہاٹ پولیس لائنز میں ہونے والے دہشت گرد حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اور سکیورٹی ادارے خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصروف ہیں۔
انہوں نے سیاسی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی پر توجہ دیں اور احتجاج کے لیے لوگوں کو جمع کرنے، ٹرانسپورٹ کا انتظام کرنے یا فنڈز اکٹھے کرنے کے بجائے امن و امان کی صورتحال کو ترجیح دیں۔
دستیاب رپورٹ کے مطابق کوہاٹ پولیس لائنز میں حملے کے نتیجے میں کم از کم 21 افراد، جن میں 15 پولیس اہلکار شامل ہیں، جاں بحق جبکہ 80 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ حملے میں بارودی مواد سے بھری گاڑی کا استعمال اور اس کے بعد پولیس لائنز کے اندر پولیس تنصیبات پر حملہ کیا گیا۔


