کوہاٹ پولیس لائنز کی مسجد میں دھماکے، اکیس افراد جاں بحق، ایک سو تین زخمی

0
2

پشاور (MNN)؛ کوہاٹ پولیس لائنز میں نمازِ جمعہ کے دوران مسجد میں ہونے والے پے در پے دھماکوں کے نتیجے میں کم از کم 21 افراد جاں بحق جبکہ 103 زخمی ہوگئے، جاں بحق افراد میں 15 پولیس اہلکار اور 6 شہری شامل ہیں۔ کوہاٹ ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر طاہر شاہ نے ہلاکتوں کی تصدیق کی۔

خیبر پختونخوا کے انسپکٹر جنرل پولیس ذوالفقار حامد کے مطابق دھماکوں سے قبل بارودی مواد سے بھری ایک گاڑی پرانی پولیس لائنز کے گیٹ سے ٹکرائی، جس کے بعد زوردار دھماکہ ہوا اور فائرنگ بھی شروع ہوگئی۔ فائرنگ کے تبادلے کے دوران اسپیشل برانچ کی عمارت میں بھی ایک خودکش دھماکہ ہوا۔

مرکزی پولیس دفتر کے مطابق ابتدائی خودکش حملے کے بعد 7 مسلح دہشت گرد پولیس لائنز میں داخل ہوئے۔ پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ نے حملہ آوروں کا مقابلہ کیا اور ایک خودکش بمبار اور اسنائپر سمیت 6 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔

دھماکوں سے مسجد کا بیرونی حصہ بری طرح متاثر ہوا جبکہ ایک دیوار بھی منہدم ہوگئی۔ ریسکیو اہلکاروں اور مقامی افراد نے ملبے سے متاثرین کو نکالنے اور زخمیوں کو طبی امداد پہنچانے کے لیے کارروائی کی۔

حکام کے مطابق کم از کم ایک حملہ آور پولیس لائنز کے احاطے میں موجود تھا، جس کے خلاف کلیئرنس آپریشن جاری رکھا گیا۔ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے مطابق ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی موقع پر پہنچے اور خود آپریشن میں شریک ہوکر اہلکاروں کی قیادت کرتے رہے۔

پولیس کے مطابق حملے کا آغاز مسجد کے قریب حدود کی دیوار پر گاڑی میں نصب دیسی ساختہ دھماکا خیز مواد پھٹنے سے ہوا۔ اس کے بعد کم از کم 7 حملہ آور احاطے میں داخل ہوئے اور سی ٹی ڈی اور اسپیشل برانچ کی عمارتوں کی جانب بڑھے۔

رپورٹ کے مطابق حملے کی ذمہ داری حافظ گل بہادر کی قیادت میں کام کرنے والے اتحاد المجاہدین نے قبول کی ہے۔

واقعے کے بعد انتظامیہ نے کوہاٹ ہنگو روڈ ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کردیا جبکہ زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیے جانے کے باعث ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔

مذمت اور اظہارِ افسوس

صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، وزیر داخلہ محسن نقوی، خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، گورنر فیصل کریم کنڈی اور بلوچستان کے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی سمیت دیگر رہنماؤں نے حملے کی شدید مذمت اور قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا۔ متعلقہ حکام کو زخمیوں کو فوری طبی سہولیات فراہم کرنے اور واقعے کی وجوہات و محرکات کی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایات جاری کی گئیں۔

صدر زرداری نے کہا کہ دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ قومی سلامتی کے لیے ضروری ہے، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے متاثرین کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے اور دھماکے کی نوعیت اور وجوہات کے بارے میں رپورٹ طلب کی۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے حملے کو انتہائی افسوسناک اور ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے زخمیوں کے فوری علاج اور واقعے کے تمام پہلوؤں کی تحقیقات کی ہدایت کی۔

سعودی عرب، روس، برطانیہ، پولینڈ، آسٹریلیا اور اردن سمیت مختلف ممالک نے بھی کوہاٹ حملے کی مذمت کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

رپورٹ کے مطابق کوہاٹ میں اس نوعیت کا بڑا حملہ ماضی میں بھی ہوچکا ہے۔ 2010 میں پولیس کالونی میں ریموٹ کنٹرول بم دھماکے کے نتیجے میں 20 افراد، جن میں زیادہ تر پولیس اہلکاروں کے رشتہ دار تھے، جاں بحق جبکہ 90 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں