اسلام آباد (MNN): سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس نے ہفتے کو کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 27 ستمبر کو ہونے والے ملک گیر احتجاج اور اسلام آباد کی جانب مارچ کو ملتوی کرنے کا اختیار صرف پارٹی کے بانی عمران خان کو حاصل ہے۔
پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو ملک گیر احتجاج، جس میں اسلام آباد کی جانب ’’لانگ مارچ‘‘ بھی شامل ہے، کا اعلان کر رکھا ہے۔ پارٹی کے مطابق احتجاج کا مقصد عمران خان کی رہائی کا مطالبہ اور آئین کی بالادستی سمیت جمہوری حقوق کے لیے عوام کو متحرک کرنا ہے۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان (ٹی ٹی اے پی) نے بھی احتجاج کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔
راجہ ناصر عباس نے ہفتے کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری ایک بیان میں کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ان سے ملاقات کی، جس میں انہیں واضح کردیا گیا کہ 27 ستمبر کے احتجاج کو ملتوی کرنے کا فیصلہ عمران خان کے سوا کوئی اور نہیں کرسکتا۔
انہوں نے لکھا، ’’کوئی عمران کو مائنس نہیں کرسکتا۔‘‘
ٹی ٹی اے پی کے ترجمان اخونزادہ حسین احمد یوسفزئی کے مطابق راجہ ناصر عباس اور پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے 14 ستمبر کو محسن نقوی سے ملاقات کی تھی۔ ان کے بقول ملاقات وزیر داخلہ کی درخواست پر ہوئی تھی۔ دیگر رپورٹس میں بھی راجہ ناصر عباس اور محسن نقوی کی ملاقات کی تصدیق کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ عمران خان اور 27 ستمبر کے مجوزہ مارچ سمیت مختلف امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
اسلام آباد میں خیبر پختونخوا ہاؤس میں پریس کانفرنس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے راجہ ناصر عباس نے کہا کہ وزیر داخلہ خود ملاقات کے لیے آئے تھے اور اپوزیشن نے اپنا مؤقف واضح کردیا تھا کہ عمران خان سے ملاقات کے بغیر کوئی فرد 27 ستمبر کا مارچ ملتوی نہیں کرسکتا۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کو فیصلہ سازی سے الگ نہیں کیا جاسکتا اور ان سے ملاقات کے بغیر کسی اہم معاملے کا حل ممکن نہیں۔
اپوزیشن کا عوامی اور آئینی حقوق پر زور
پریس کانفرنس کے دوران راجہ ناصر عباس نے کہا کہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور ان کے آئینی حقوق کا تحفظ ملک کے اہم مسائل میں شامل ہیں۔
انہوں نے ایک وفاقی وزیر سے منسوب ان ریمارکس کا بھی حوالہ دیا جن میں ملک کے نظام کو درپیش سنگین مسائل کا اعتراف کیا گیا تھا۔
ٹی ٹی اے پی رہنما اور سندھ کے سابق گورنر محمد زبیر نے کہا کہ حکمران اشرافیہ کے طرز زندگی اور عام شہریوں کو درپیش معاشی مشکلات کے درمیان واضح فرق موجود ہے۔
محمد زبیر نے دعویٰ کیا کہ تقریباً ساڑھے چار سال پہلے کے مقابلے میں غربت، بے روزگاری اور مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بجلی کے نرخوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا جبکہ عوام نے اس امید پر مشکلات برداشت کیں کہ معاشی حالات میں بہتری آئے گی۔
پی ٹی آئی رہنما اور خیبر پختونخوا کے سابق وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے حکومتی اخراجات پر سوالات اٹھاتے ہوئے مبینہ طور پر دس ارب روپے مالیت کے جیٹ کی خریداری اور سرکاری و نجی سفری اخراجات پر تنقید کی۔
انہوں نے کہا کہ عوام کے پیسے کے ایک ایک روپے کا حساب ہونا چاہیے اور سوال اٹھایا کہ بڑھتی ہوئی پٹرولیم قیمتوں سے متاثرہ عوام کو ریلیف کیوں فراہم نہیں کیا جارہا۔
حکومت کا اسلام آباد مارچ روکنے کا انتباہ
اپوزیشن کے بیانات سے چند روز قبل وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا تھا کہ حکومت اسلام آباد کی جانب مارچ کرنے والوں کو روکنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی۔
انہوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے حالیہ فیصلے کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کے امکان سے بھی خبردار کیا تھا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کے مجوزہ اجتماعات سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران قرار دیا کہ سیاسی جماعت کو احتجاج کا حق حاصل ہے، تاہم یہ حق آئین اور قانون کے تابع ہے۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر کرنے والی کوئی سرگرمی آئین کی خلاف ورزی تصور ہوگی۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات
دوسری جانب ہفتے کو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اسلام آباد میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس سے ملاقات کی، جس میں 27 ستمبر کے احتجاج سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ٹی ٹی اے پی کے مطابق ملاقات میں 27 ستمبر کی کال، آئندہ کے لائحہ عمل، سیاسی حکمت عملی اور جمہوری جدوجہد کو آگے بڑھانے کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی مشاورت ہوئی۔
بیان کے مطابق شرکا نے آئین کی بالادستی، جمہوری و صوبائی حقوق اور عوامی مینڈیٹ کے تحفظ کے لیے 27 ستمبر کے احتجاج کو منظم سیاسی جدوجہد کے طور پر آگے بڑھانے کے مختلف پہلوؤں پر غور کیا۔
تینوں رہنما رواں ہفتے کے دوران بھی ملاقات کرچکے ہیں جہاں 27 ستمبر کے احتجاج کی تیاریوں پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اس سے قبل پی ٹی آئی کے کارکنوں کو احتجاج کے لیے متحرک کرنے کے سلسلے میں سندھ اور پنجاب کا دورہ بھی کرچکے ہیں۔ اگست میں سہیل آفریدی نے کہا تھا کہ 27 ستمبر کے مارچ کی تاریخ پی ٹی آئی کی سیاسی قیادت اور تحریک تحفظ آئین پاکستان سے مشاورت کے بعد طے کی گئی تھی۔
پنجاب کے دورے کے دوران سہیل آفریدی نے لاہور میں حکام کی جانب سے حراست میں لیے جانے اور بعد ازاں سڑک کنارے چھوڑے جانے کا الزام عائد کیا تھا۔ پنجاب حکومت نے اس الزام کی تردید کی، جبکہ وزیر اعلیٰ کی سکیورٹی پر مامور پولیس اہلکار کے بارے میں وزیر اعلیٰ کے دعوے کی بھی پولیس نے وضاحت پیش کی۔
دریں اثنا اسلام آباد اور راولپنڈی کی انتظامیہ نے 27 ستمبر کے اعلان کردہ مارچ کے پیش نظر سکیورٹی اور دیگر انتظامات شروع کر رکھے ہیں، جن میں اضافی نفری، کنٹینرز اور انسدادِ ہنگامہ آرائی کے سامان سے متعلق اقدامات شامل ہیں۔
27 ستمبر کا احتجاج پی ٹی آئی اور اس کے اتحادی اپوزیشن گروپس کی سیاسی سرگرمیوں کا اہم حصہ بنا ہوا ہے، جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ کسی بھی احتجاج کو آئین، قانون اور عدالتی احکامات کی حدود میں رہنا ہوگا۔


