امریکا، ڈنمارک اور گرین لینڈ میں امریکی فوجی موجودگی بڑھانے کا معاہدہ

0
2

واشنگٹن/اسلام آباد (MNN): امریکا، ڈنمارک اور گرین لینڈ کے درمیان ایک معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے تحت گرین لینڈ میں امریکی فوجی موجودگی میں اضافے کی راہ ہموار ہوگی، جبکہ امریکا کے مخالف ممالک کو جزیرے پر فوجی اڈے قائم کرنے اور بعض حساس سرمایہ کاری کرنے سے روکا جائے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری بیان میں کہا کہ معاہدے کے تحت امریکا کو گرین لینڈ کی سلامتی اور اپنے دفاع کے لیے مستقل بنیادوں پر ضروری اقدامات کرنے کی مکمل آزادی حاصل ہوگی۔

ٹرمپ نے لکھا کہ ان کی ہدایت پر ڈنمارک اور گرین لینڈ کے نمائندوں کے ساتھ مل کر ایسا انتظام کیا گیا ہے جس کے ذریعے امریکا کو گرین لینڈ اور امریکا کی سلامتی کے تحفظ اور دفاع کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی مستقل صلاحیت حاصل رہے گی۔

ٹرمپ کے مطابق معاہدے کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کے مخالف ممالک کو گرین لینڈ میں فوجی اڈے قائم کرنے سے روکا جائے گا جبکہ حساس نوعیت کی سرمایہ کاری بھی امریکی منظوری کے بغیر نہیں کی جاسکے گی۔

اس اعلان سے قبل خبر رساں ادارے رائٹرز نے رپورٹ کیا تھا کہ امریکا اور ڈنمارک ایک ایسے معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں جس کے نتیجے میں گرین لینڈ میں امریکی فوجی موجودگی میں اضافہ ہوگا، تاہم یہ پیش رفت ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ کو امریکا کا حصہ بنانے کی طویل عرصے سے جاری خواہش سے بہت آگے نہیں جائے گی۔

امریکا کو پہلے ہی 1951 کے ایک معاہدے کے تحت گرین لینڈ میں فضائی گزرگاہوں اور فوجی اڈوں کے استعمال کے وسیع حقوق حاصل ہیں۔ گرین لینڈ کے شمال مغربی حصے میں امریکی اسپیس فورس کا ایک اڈہ بھی موجود ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ امریکا جلد گرین لینڈ میں ایک بڑی فوجی موجودگی قائم کرے گا، تاہم انہوں نے اس کی نوعیت، حجم یا ممکنہ مقامات کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

انہوں نے اپنے بیان میں معاہدے کو امریکا کے لیے ’’خواب کی تعبیر‘‘ قرار دیا۔

معاہدے کی تفصیلات تاحال مکمل طور پر واضح نہیں

ڈنمارک کے وزیراعظم کے دفتر نے کہا ہے کہ معاہدہ شمالی بحرِ اوقیانوس اور آرکٹک خطے کی سلامتی کو مضبوط بنانے میں مدد دے گا۔

گرین لینڈ کے وزیراعظم جینز فریڈرک نیلسن نے کہا کہ معاہدہ گرین لینڈ کے مفادات اور بین الاقوامی تعاون میں اس کی حیثیت کو تسلیم کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’’یہ ہم سب کے لیے فائدہ مند ہے۔‘‘

تاہم معاہدے کی متعدد اہم تفصیلات جمعہ کی رات تک واضح نہیں تھیں، جن میں یہ بھی شامل ہے کہ آیا اس کے نتیجے میں گرین لینڈ میں نئے مستقل امریکی فوجی اڈے تعمیر کیے جائیں گے یا نہیں۔

سابق پینٹاگون عہدیدار اور اب اٹلانٹک کونسل سے وابستہ عمران بیومی نے کہا کہ اگر امریکا کو ڈنمارک یا گرین لینڈ کی منظوری کے بغیر فوجی اڈے قائم کرنے کی اجازت ملتی ہے تو یہ ایک نئی پیش رفت ہوگی۔

تاہم ان کے مطابق واشنگٹن اپنے متعدد مقاصد سفارتی رابطوں اور مذاکرات کے ذریعے بھی حاصل کرسکتا تھا، بغیر اس کے کہ امریکا اور نیٹو کے وسیع تر تعلقات پر اضافی دباؤ پڑتا۔

گرین لینڈ میں بھی اس معاہدے کے ردعمل کے بارے میں صورتحال واضح نہیں تھی۔ گرین لینڈ ڈنمارک کی ایک خودمختار اکائی ہے، جبکہ وہاں کے بہت سے باشندے مزید خودمختاری یا مستقبل میں مکمل آزادی کے خواہاں ہیں۔ ماضی میں امریکی جانب سے گرین لینڈ پر زیادہ کنٹرول کے اشاروں کو بھی جزیرے میں تحفظات کا سامنا رہا ہے۔

امریکی مخالف ممالک کو روکنے کا انتظام

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے الگ بیان میں کہا کہ معاہدے نے گرین لینڈ سے متعلق واشنگٹن کے قومی سلامتی کے خدشات کو ’’مستقل اور مکمل طور پر‘‘ حل کردیا ہے۔

روبیو نے کہا کہ گرین لینڈ شمالی امریکا کے اسٹریٹجک دفاعی علاقے کا مستقل حصہ رہے گا اور امریکا کے مخالف ممالک کو جزیرے اور اس کے گردونواح سے دور رکھا جائے گا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ معاہدے کے تحت غیر نیٹو ممالک کو گرین لینڈ میں فوجی اڈہ قائم کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

عہدیدار کے مطابق امریکا اور اس کے اتحادیوں کو گرین لینڈ میں بعض مخصوص ’’حساس سرمایہ کاری‘‘ کرنے کی اجازت ہوگی، تاہم ان سرمایہ کاریوں کی مکمل نوعیت واضح نہیں کی گئی۔

امریکی عہدیدار نے مزید کہا کہ معاہدہ امریکا کو گرین لینڈ میں مستقل رسائی، فوجی اڈوں کے استعمال اور فضائی گزرگاہوں کے حقوق فراہم کرتا ہے۔

ان کے مطابق یہ حقوق اس صورت میں بھی برقرار رہیں گے اگر مستقبل میں گرین لینڈ ڈنمارک سے علیحدہ ہو کر آزاد ریاست بن جائے۔

معاہدہ بظاہر گرین لینڈ میں امریکا کی طویل المدتی اسٹریٹجک اور فوجی رسائی کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ واشنگٹن کے ان خدشات کو دور کرنے پر مرکوز ہے جو اسے اپنے حریف ممالک کی ممکنہ فوجی یا اقتصادی موجودگی کے حوالے سے لاحق ہیں۔

تاہم معاہدے پر عملدرآمد کے طریقہ کار، نئی امریکی فوجی تنصیبات کی تعمیر اور گرین لینڈ کے سیاسی و عوامی ردعمل سے متعلق متعدد تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئی ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں