کوہاٹ پولیس لائنز میں رات بھر آپریشن، 8 دہشت گرد مارے گئ

0
1

پشاور (MNN)؛ کوہاٹ کے پرانے پولیس لائنز میں مسجد کے قریب ہونے والے ہلاکت خیز دہشت گرد حملے کے بعد رات بھر جاری رہنے والا کلیئرنس آپریشن مکمل کرلیا گیا، خیبر پختونخوا پولیس کے مطابق جوابی کارروائی میں آٹھ دہشت گرد ہلاک ہوئے۔

پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے حکام کے مطابق جمعہ کو ہونے والے حملے میں جاں بحق افراد کی تعداد بڑھ کر 23 ہوگئی ہے، جن میں 17 پولیس اہلکار اور 6 شہری شامل ہیں جبکہ 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔

حملہ آوروں نے نماز جمعہ کے دوران پرانے پولیس لائنز میں مسجد کے قریب بارودی مواد سے بھری گاڑی دھماکے سے اڑا دی، جس کے بعد دہشت گرد پولیس لائنز کے احاطے میں داخل ہوگئے اور پولیس کی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔

خیبر پختونخوا پولیس کے جاری کردہ بیان کے مطابق ایلیٹ فورس کمانڈوز، سی ٹی ڈی ٹیموں اور سکیورٹی فورسز نے رات بھر جاری رہنے والے آپریشن کے دوران عمارتوں کے اہم حصوں کو کلیئر کیا۔

آپریشن کی نگرانی خیبر پختونخوا کے انسپکٹر جنرل پولیس ذوالفقار حامد نے کی جبکہ سی ٹی ڈی کے ایڈیشنل آئی جی، کوہاٹ ریجنل پولیس آفیسر اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر نے آپریشن کی قیادت کی۔ کوہاٹ کے جنرل آفیسر کمانڈنگ بھی موقع پر موجود تھے۔

پولیس کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کامیابی سے آپریشن مکمل کیا۔ آئی جی ذوالفقار حامد نے آپریشن میں حصہ لینے والے افسران اور اہلکاروں کو سراہا اور ان کے لیے انعامات کا اعلان کیا۔

آئی جی نے کہا کہ پولیس، سی ٹی ڈی اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے بہادری سے مقابلہ کیا اور دہشت گردوں کے عزائم ناکام بنا دیے گئے۔

سی ٹی ڈی ایڈیشنل آئی جی زخمی

سی ٹی ڈی کے مطابق آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے دستی بم حملے میں سی ٹی ڈی کے ایڈیشنل آئی جی زخمی ہوگئے۔

سی ٹی ڈی کے بیان کے مطابق مسجد پر خودکش حملے کے بعد دہشت گرد اسپیشل برانچ کی عمارت میں داخل ہوگئے تھے، جس کے خلاف کارروائی کے دوران ایڈیشنل آئی جی فرنٹ لائن پر موجود رہے اور اہلکاروں کی نگرانی کرتے رہے۔

دستی بم حملے میں ان کے ہاتھ پر چوٹ آئی، تاہم ابتدائی طبی امداد کے بعد وہ دوبارہ فرنٹ لائن پر پہنچ گئے اور آپریشن کی نگرانی کے ساتھ اہلکاروں کا حوصلہ بڑھاتے رہے۔

دہشت گردوں کی ہلاکتوں کے حوالے سے سرکاری بیانات میں فرق سامنے آیا ہے۔ خیبر پختونخوا پولیس نے آٹھ دہشت گردوں کی ہلاکت کی تصدیق کی جبکہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سات حملہ آوروں کو ہلاک کرنے کا بیان دیا۔

محسن نقوی نے آپریشن میں حصہ لینے والے سکیورٹی اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بہادر اہلکاروں پر فخر ہے۔ انہوں نے حملے میں شہید ہونے والوں کو بھی خراج عقیدت پیش کیا اور ان کی قربانیوں کو فرض شناسی کی اعلیٰ مثال قرار دیا۔

ریسکیو آپریشن مکمل

ریسکیو 1122 نے بھی امدادی کارروائی مکمل کرلی۔ ریسکیو حکام کے مطابق آپریشن میں ایمبولینسز، ریسکیو گاڑیوں اور ریکوری گاڑیوں سمیت 24 گاڑیوں نے حصہ لیا۔

کوہاٹ کے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر نورالامین خٹک کی نگرانی میں 60 سے زائد ریسکیو اہلکاروں نے کارروائی میں حصہ لیا جبکہ کرک اور ہنگو سمیت دیگر اضلاع سے بھی ریسکیو ٹیموں اور گاڑیوں نے امدادی سرگرمیوں میں معاونت کی۔

سات زخمیوں کو مزید علاج کے لیے پشاور منتقل کیا گیا، جن میں پانچ کو لیڈی ریڈنگ ہسپتال جبکہ دو کو حیات آباد میڈیکل کمپلیکس منتقل کیا گیا۔

ریسکیو 1122 کے ترجمان بلال احمد فیضی نے کہا کہ اہلکاروں نے انتہائی مشکل، حساس اور خطرناک حالات میں پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ امدادی کارروائیاں انجام دیں۔

پاکستان کا افغان طالبان سے دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

وزارت اطلاعات نے کوہاٹ میں نماز جمعہ ادا کرنے والے شہریوں اور پولیس اہلکاروں پر دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان کی سرزمین کو دہشت گرد گروہوں کی جانب سے پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی اور کارروائیوں کے لیے استعمال کیے جانے پر افغان طالبان کے سامنے بارہا اپنے تحفظات پیش کرچکا ہے۔

وزارت کے مطابق افغانستان میں دہشت گرد پناہ گاہوں، بھرتی اور معاونت کے نیٹ ورکس کی موجودگی پاکستان کی سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔

وزارت نے کہا کہ پاکستان نے افغان طالبان اور ان کے رابطہ کاروں کے سامنے یہ معاملہ متعدد مرتبہ اٹھایا اور مطالبہ کیا کہ ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالنے کے بجائے دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف ٹھوس کارروائی کی جائے۔

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے پاکستان کو ’’کرشنگ رسپانس‘‘ کی دھمکی پر بھی تنقید کی اور کہا کہ افغان طالبان کو اپنی سرزمین پر موجود دہشت گرد نیٹ ورکس سے نمٹنا چاہیے۔

پاکستان نے افغان وزارت خارجہ کی جانب سے کوہاٹ حملے کی مذمت اور متاثرین کے اہلخانہ سے اظہار ہمدردی کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ مذمت کے ساتھ ساتھ ٹھوس، قابل تصدیق اور مستقل اقدامات بھی ضروری ہیں۔

وزارت نے کہا کہ پاکستان مذاکرات اور تعمیری رابطے کے لیے پرعزم ہے، تاہم شہریوں، سرزمین اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی قانون کے مطابق ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا زخمیوں اور شہداء کے اہلخانہ سے ملاقات

خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کوہاٹ حملے میں زخمی ہونے والے افراد اور شہداء کے اہلخانہ سے ملاقات کی، صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان کے مطابق۔

وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو زخمیوں کو بہترین ممکنہ طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی اور سوگوار خاندانوں سے تعزیت کرتے ہوئے انہیں یقین دلایا کہ حکومت مشکل کی اس گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑی ہے اور ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے جمعہ کو حملے کے بعد تفصیلی رپورٹ بھی طلب کی تھی اور بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانے کو انتہائی افسوسناک اور ناقابل قبول قرار دیا تھا۔

حملے کی ذمہ داری حافظ گل بہادر کی قیادت میں اتحاد المجاہدین نے قبول کی ہے۔

جمعہ کی شام کوہاٹ میں شہید ہونے والے 15 پولیس اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا کی گئی، جس کے بعد ان کی میتیں ریسکیو 1122 کی ایمبولینسوں کے ذریعے کوہاٹ، کرک، لکی مروت، بنوں اور مردان سمیت ان کے آبائی اضلاع منتقل کردی گئیں۔

شہید ہونے والوں میں ایس پی ٹریفک اکبر شنواری، ڈی ایچ کیو ہسپتال کے شعبہ اطفال کے سربراہ ڈاکٹر اسرائیل اورکزئی اور اسپیشل برانچ و سی ٹی ڈی کے اہلکار بھی شامل ہیں۔

یاد رہے کہ 2010 میں بھی کوہاٹ پولیس لائنز کے عقب میں واقع پولیس کالونی میں ریموٹ کنٹرول بم دھماکے کے نتیجے میں 20 افراد، جن میں زیادہ تر پولیس اہلکاروں کے رشتہ دار تھے، جاں بحق جبکہ 90 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں