دوحہ/اسلام آباد (ایم این این): پاکستان، قطر، ترکیہ اور انڈونیشیا نے دفاعی پیداوار میں تعاون، مشترکہ صنعتی اشتراک اور اپنی عسکری صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے بدھ کو ایک کثیرالملکی دفاعی معاہدے پر دستخط کر دیے۔
ترکیہ کی وزارتِ قومی دفاع کے مطابق ’’بدر مفاہمتی یادداشت‘‘ (ایم او یو) پر دستخط قطر میں منعقدہ تقریب کے دوران کیے گئے، جس میں چاروں ممالک کے وزرائے دفاع اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ پاکستان کی نمائندگی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کی۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے معاہدے پر تاحال الگ بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم خواجہ آصف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ’’بدر‘‘ مفاہمتی یادداشت کے حوالے سے اپنے اہم نکات شیئر کیے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان قابلِ اعتماد شراکت داروں کے ساتھ دفاعی تعاون مضبوط بنانے کو خصوصی اہمیت دیتا ہے۔ ان کے مطابق یہ مفاہمتی یادداشت علاقائی امن و استحکام کے فروغ کے لیے چاروں ممالک کے مشترکہ عزم کی عکاس ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس شراکت داری کے ذریعے دفاعی شعبے میں خود انحصاری، صنعتی تعاون، مشترکہ پیداوار اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے مواقع تلاش کیے جائیں گے۔ اس مقصد کے لیے چاروں ممالک اپنی دفاعی صنعتوں کی ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھائیں گے، جبکہ متعلقہ ملکی اور بین الاقوامی قوانین و ضوابط کی پابندی کی جائے گی۔
خواجہ آصف کے مطابق معاہدے کے تحت مشترکہ تحقیق و ترقی، تربیتی تبادلوں اور صنعتی صلاحیتوں میں اضافے کے شعبوں میں بھی تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔
ترکیہ کی وزارتِ دفاع کے مطابق معاہدے کا مقصد فوجی پیداوار میں تعاون بڑھانا، دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کرنا اور تکنیکی فوجی تربیت، تحقیق اور ترقی کے شعبوں میں مشترکہ سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے۔ وزارت نے معاہدے کو اقتصادی اعتبار سے بھی اہم قرار دیا۔
معاہدے پر دستخط کرنے والی دیگر شخصیات میں ترکیہ کے وزیر دفاع یاشار گولر، قطر کے نائب وزیراعظم و وزیر مملکت برائے دفاع شیخ سعود بن عبدالرحمٰن اور انڈونیشیا کے نائب وزیر دفاع یوسف جوہاری شامل تھے۔ ترکیہ کے سیکریٹریٹ آف ڈیفنس انڈسٹریز کے سربراہ ہالوک گورگن بھی تقریب میں موجود تھے۔
ہالوک گورگن نے معاہدے کو مشترکہ پیداوار اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے اسٹریٹجک تعاون کی بنیاد قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا تبادلہ، مشترکہ ترقی اور مقامی پیداواری صلاحیتوں کو مضبوط بنانا پائیدار دفاعی صنعت کے بنیادی عناصر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ترکیہ ایسے اشتراک کو اہمیت دیتا ہے جو صرف تیار شدہ فوجی سازوسامان کی خریداری تک محدود نہ ہو، بلکہ متعلقہ ممالک کے انسانی وسائل، مقامی مہارتوں اور صنعتی ڈھانچے کی ترقی میں بھی معاون ثابت ہو۔
گورگن نے امید ظاہر کی کہ بدر مفاہمتی یادداشت کے ذریعے قطر، پاکستان، انڈونیشیا اور ترکیہ کی ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والی صلاحیتوں کو عملی مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جا سکے گا۔
قطر کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اس معاہدے کا نام ’’بدر‘‘ رکھا گیا ہے، جو چودھویں کے چاند کی طرف اشارہ کرتا ہے اور دفاعی و اقتصادی شعبوں میں چاروں ممالک کی ایک دوسرے کی معاونت اور تکمیلی صلاحیتوں کی علامت ہے۔
خبر رساں ایجنسی نے بتایا کہ دیگر دوست ممالک بھی چاروں دستخط کنندگان کے طے کردہ معیار کے مطابق اس مفاہمتی یادداشت میں شامل ہو سکتے ہیں۔
یہ معاہدہ چاروں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے سفارتی اور دفاعی روابط کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب مکہ دفاعی اتحاد کے رکن ہیں، جس کے تحت کسی ایک رکن پر حملے کو تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جانا ہے۔ قطر نے بھی اس معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے علاقائی سلامتی اور استحکام کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا تھا۔
پاکستان اور قطر امریکا اور ایران کے درمیان تنازع کے حوالے سے ثالثی کی کوششوں میں بھی مصروف رہے ہیں، جبکہ پاکستان اور ترکیہ، سعودی عرب اور مصر کے ساتھ علاقائی چار ملکی گروپ (آر فور) کا حصہ ہیں۔
رواں ہفتے وزیر داخلہ محسن نقوی نے دوحہ کے دورے کے دوران اپنے قطری ہم منصب سے ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک نے داخلی سلامتی کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔
صدر آصف علی زرداری نے نومبر 2025 میں قطر کے دورے کے دوران امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے ملاقات میں دفاعی پیداوار سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے کی پیشکش بھی کی تھی۔
انڈونیشیا کے ساتھ پاکستان کے دفاعی روابط میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ گزشتہ ماہ انڈونیشیا کے بحریہ کے سربراہ ایڈمرل ڈاکٹر محمد علی نے راولپنڈی میں چیف آف ڈیفنس فورسز و چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی تھی۔
پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق دونوں جانب سے پیشہ ورانہ تربیت، دفاعی تعاون اور مشترکہ فوجی مشقوں سمیت مختلف شعبوں میں روابط مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
جنوری میں انڈونیشیا کے وزیر دفاع، ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل سجافری سجامسوڈین نے بھی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی تھی، جس میں انڈونیشیا نے پاکستان کے ساتھ دفاعی تعلقات مزید وسعت دینے میں دلچسپی ظاہر کی تھی۔


