وزیراعظم شہباز شریف چار روزہ دورے پر چین پہنچ گئے، اسٹریٹجک اور اقتصادی تعاون بڑھانے پر توجہ

0
16

اسلام آباد/ہانگژو (ایم این این): وزیراعظم شہباز شریف چار روزہ سرکاری دورے پر چین پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ دوطرفہ اسٹریٹجک تعاون اور اقتصادی روابط کو مزید فروغ دینے کے لیے اہم ملاقاتیں کریں گے۔

وزیراعظم ہانگژو کے شیاوشان انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچے تو ان کا استقبال ژی جیانگ کے نائب گورنر شو وینگوانگ، پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ زائی ڈونگ اور چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی نے کیا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں وزیراعظم نے ژی جیانگ کی قیادت کی جانب سے پرتپاک استقبال پر شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ژی جیانگ صوبے کے ساتھ ڈیجیٹل معیشت، ای کامرس، انفارمیشن ٹیکنالوجی، ٹیلی کمیونی کیشن، زراعت، قابلِ تجدید توانائی، جدید صنعت اور مہارتوں کی ترقی سمیت مختلف شعبوں میں عملی تعاون بڑھانے کا خواہاں ہے۔

وزیراعظم نے پاکستان اور چین کے درمیان دیرینہ دوستی کے رشتے کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔

حکومتِ پاکستان کے مطابق وزیراعظم کے ہمراہ نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ، وزیرِ آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ اور وزیراعظم کے معاونِ خصوصی طارق فاطمی بھی موجود ہیں۔

دفترِ خارجہ نے کہا کہ یہ دورہ خصوصی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ پاکستان اور چین سفارتی تعلقات کے پچھترویں سال کا جشن منا رہے ہیں۔

دفترِ خارجہ کے مطابق یہ دورہ پاک چین ہمہ موسمی اسٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے اور مشترکہ مستقبل کے وژن کو آگے بڑھانے کا موقع فراہم کرے گا۔

وزیراعظم اپنے قیام کے دوران پاک چین بزنس ٹو بزنس سرمایہ کاری کانفرنس کی صدارت کریں گے، جس میں انفارمیشن ٹیکنالوجی، ٹیلی کام، بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز اور زراعت پر توجہ دی جائے گی۔

وہ پاکستانی اور چینی کمپنیوں کے درمیان معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں کے تبادلے کی تقریب میں بھی شریک ہوں گے۔

حکام کے مطابق وزیراعظم معروف چینی کمپنیوں کے سربراہان سے ملاقاتیں کریں گے اور علی بابا گروپ کے ہیڈکوارٹرز کا بھی دورہ کریں گے، جہاں تعاون کے متعدد معاہدوں پر دستخط متوقع ہیں۔

دورے کے دوسرے مرحلے میں وزیراعظم بیجنگ جائیں گے جہاں وہ چینی صدر شی جن پنگ اور وزیراعظم لی چیانگ سے ملاقاتیں کریں گے۔

دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور اسٹریٹجک تعاون کا جائزہ لیا جائے گا جبکہ چین پاکستان اقتصادی راہداری، تجارت، سرمایہ کاری، صنعتی تعاون، زرعی جدت، سائنس و ٹیکنالوجی اور عوامی روابط پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

دفترِ خارجہ کے مطابق اس دورے سے سیاسی اعتماد مزید مضبوط ہوگا، اسٹریٹجک ہم آہنگی بڑھے گی اور پاک چین دوستی کے دیرینہ تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں