اسلام آباد/تہران (ایم این این): ایران نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز بدستور ایرانی انتظام میں رہے گی اور اس حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتا۔
ایرانی خبر رساں ادارے فارس نیوز ایجنسی کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان تبادلہ کیے گئے تازہ مسودے میں آبنائے ہرمز کے انتظامی کنٹرول کو ایران کے پاس رکھنے کی بات کی گئی ہے۔
ادارے نے ٹرمپ کے اس دعوے کو “نامکمل اور حقائق کے برعکس” قرار دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ مجوزہ امن معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دیا جائے گا۔
ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے مشرق وسطیٰ اور خطے کے متعدد رہنماؤں سے ایران اور امن سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر تفصیلی گفتگو کی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس گفتگو میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید، قطر کے امیر تمیم بن حمد الثانی، پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان، مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی، اردن کے شاہ عبداللہ دوم اور بحرین کے بادشاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ شامل تھے۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ امریکا، ایران اور دیگر ممالک کے درمیان ایک وسیع معاہدہ بڑی حد تک طے پا چکا ہے جبکہ آخری تفصیلات پر بات چیت جاری ہے۔
انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے بھی الگ گفتگو کی جسے انہوں نے مثبت قرار دیا۔
امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے خبردار کیا کہ اگر کسی معاہدے کے نتیجے میں ایران آبنائے ہرمز پر دباؤ ڈالنے کی صلاحیت برقرار رکھتا ہے تو اس سے خطے میں طاقت کا توازن تبدیل ہوسکتا ہے۔
دوسری جانب سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی نے خطے کی صورتحال، امن کوششوں اور علاقائی استحکام پر ٹیلیفونک گفتگو کی۔
ادھر ذرائع کے مطابق پاکستان اور ایران نے امریکا کو جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ایک نیا مجوزہ فریم ورک پیش کیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق امریکی جواب اتوار تک موصول ہونے کا امکان ہے۔
پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے تہران مذاکرات کے بعد انہیں مبارکباد دی۔
ایکس پر جاری بیان میں ایرانی سفیر نے محتاط امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر تمام فریق سنجیدگی کا مظاہرہ کریں تو مثبت پیش رفت ممکن ہے۔
انہوں نے اس پیش رفت کا سہرا ایران کے مؤقف، ایرانی عوام و افواج کی مزاحمت اور پاکستانی ثالثی کوششوں کو دیا۔
ایرانی سفیر نے پاکستانی حکومت اور عسکری قیادت کی سفارتی کوششوں کو بھی سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ اقدامات خطے میں دیرپا امن کے قیام میں مددگار ثابت ہوں گے۔


