ایران کا کہنا ہے مذاکرات میں پیش رفت ہوئی، فوری معاہدہ متوقع نہیں، میزائل اور ڈرون پروگرام جاری رہے گا

0
15

تہران (ایم این این): ایران نے پیر کو کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، تاہم کسی فوری معاہدے کا امکان نہیں اور بات چیت ابھی حتمی مرحلے میں داخل نہیں ہوئی۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ مذاکرات کے کئی اہم نکات پر پیش رفت ہوئی ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ کسی معاہدے پر جلد دستخط ہونے والے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت مذاکرات کا بنیادی مقصد جنگ کا خاتمہ ہے، جبکہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق تفصیلی بات چیت بعد کے مرحلے میں ہوگی۔

اسماعیل بقائی نے بتایا کہ ایران کا فی الحال پاکستان کو کوئی وفد بھیجنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

آبنائے ہرمز کے حوالے سے انہوں نے وضاحت کی کہ ایران وہاں سے گزرنے والے جہازوں پر کوئی ٹول ٹیکس عائد نہیں کر رہا، تاہم جہاز رانی، رہنمائی اور ماحولیاتی تحفظ سے متعلق خدمات کے عوض فیس وصول کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کا انتظام اور سکیورٹی ساحلی ممالک کی ذمہ داری ہے اور ایران اس حوالے سے خطے کے ممالک سے مسلسل رابطے میں ہے تاکہ سمندری راستے محفوظ رہیں اور علاقائی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

اسماعیل بقائی نے امریکی قیادت کی جانب سے آنے والے متضاد بیانات پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے مذاکراتی عمل پیچیدہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی قیادت کے اندر پالیسی کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال ہے اور چند گھنٹوں کے اندر مختلف امریکی حکام کے متضاد بیانات مذاکرات کو مشکل بنا دیتے ہیں۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدہ ابھی مکمل طور پر طے نہیں پایا، جبکہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے عندیہ دیا کہ پیش رفت جلد سامنے آ سکتی ہے۔

ایرانی ترجمان نے کہا کہ پاکستان اور دیگر ممالک کی ثالثی نے حالیہ سفارتی پیش رفت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں لبنان میں جاری کشیدگی کے خاتمے سے متعلق تجاویز بھی شامل ہیں۔

انہوں نے امریکا اور اسرائیل پر ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے، بشمول اسٹیل اور ادویہ سازی کے کارخانوں کو نشانہ بنانے کا الزام بھی عائد کیا۔

اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ ایران اپنا میزائل اور ڈرون پروگرام جاری رکھے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایران اپنے وسائل کا ایک حصہ ڈرون اور میزائل پروگرام کی ترقی پر خرچ کرتا رہے گا اور اس حوالے سے کسی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں۔

ایک اور ایرانی سفارتکار حسین نوش آبادی نے کہا کہ اگر امریکا ممکنہ مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرتا ہے تو ایران اپنے جوہری پروگرام اور انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخائر پر بھی بات چیت کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ مجوزہ فریم ورک کے تحت ساٹھ روزہ مذاکرات کے بدلے ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی اور منجمد ایرانی اثاثوں کی رہائی زیر غور ہے۔

اسماعیل بقائی نے مزید بتایا کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی ویزا مسائل کے باعث نیویارک میں ہونے والے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں شرکت نہیں کر سکیں گے۔

دوسری جانب چین نے امریکا اور ایران پر زور دیا ہے کہ کشیدگی میں کمی کے موجودہ عمل کو برقرار رکھا جائے۔

چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے کہا کہ اس تنازع کا جلد حل امریکا، ایران، خطے اور پوری دنیا کے مفاد میں ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں