مشرقِ وسطیٰ میں امن کی امیدوں کے درمیان پندرہ لاکھ سے زائد عازمین حج مکہ مکرمہ پہنچ گئے

0
14

مکہ مکرمہ (ایم این این): سالانہ حج کی ادائیگی کے لیے پندرہ لاکھ سے زائد مسلمان پیر کو مکہ مکرمہ میں جمع ہونا شروع ہوگئے، جہاں مشرقِ وسطیٰ میں امن کی امیدوں کے درمیان مناسک حج کا باقاعدہ آغاز ہوگیا۔

سفید احرام میں ملبوس عازمین طوافِ کعبہ کے بعد بسوں اور پیدل منیٰ کے وسیع خیمہ بستی کی جانب روانہ ہوئے، جہاں لاکھوں فرزندانِ اسلام نے قیام شروع کر دیا۔

اس سال حج ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور ایران سے متعلق جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے حوالے سے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔

علاقائی تنازعات اور خلیجی ممالک میں حالیہ حملوں کے باوجود سعودی حکام نے اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی ہے کہ عازمین کی توجہ عبادت، روحانیت اور حج کی ادائیگی پر مرکوز رہے۔

سعودی حکام کے مطابق اس سال بیرونِ ملک سے آنے والے عازمین کی تعداد گزشتہ سال سے بڑھ گئی ہے۔ سعودی عرب کی حج پاسپورٹ فورس کے کمانڈر صالح المربع نے بتایا کہ جمعے کی رات تک پندرہ لاکھ اٹھارہ ہزار ایک سو ترپن عازمین بیرونِ ملک سے سعودی عرب پہنچ چکے تھے، جبکہ مزید عازمین کی آمد جاری ہے۔

ایران سمیت دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان خطے کی کشیدگی، فضائی سفر میں رکاوٹوں اور بڑھتے سفری اخراجات کے باوجود حج کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب پہنچے ہیں۔

سعودی حکام نے حج کے دوران سکیورٹی اور انتظامات کے لیے غیر معمولی اقدامات کیے ہیں۔ مکہ مکرمہ کے اطراف فضائی دفاعی نظام تعینات کیا گیا ہے جبکہ ڈرونز، مصنوعی ذہانت اور جدید نگرانی کے نظام کے ذریعے ہجوم کی نگرانی، خلاف ورزیوں کی نشاندہی اور بغیر اجازت داخلے کی روک تھام کی جا رہی ہے۔

سعودی میڈیا کے مطابق مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام رش کے امکانات کا پہلے سے اندازہ لگا کر عازمین کو متبادل راستوں کی جانب منتقل کرے گا، جبکہ چہرے کی شناخت کرنے والے کیمرے اور تھرمل امیجنگ آلات بھی سکیورٹی پلان کا حصہ ہیں۔

متعدد عازمین نے خطے میں جلد امن قائم ہونے کی امید ظاہر کی۔

مصری حاجی محمد شہادہ نے مسجد الحرام سے نکلتے ہوئے کہا کہ جنگ نے پوری دنیا کو متاثر کیا ہے، کوئی بھی ملکوں اور انسانوں کے لیے جنگ اور نقصان نہیں چاہتا۔

شدید گرمی بھی اس سال حج کے بڑے چیلنجز میں شامل ہے، جہاں ہفتے بھر درجہ حرارت چالیس ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کرنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

گرمی اور علاقائی کشیدگی کے باوجود مکہ مکرمہ میں موجود عازمین میں خوشی اور روحانی جوش و خروش نمایاں ہے۔

مراکش سے تعلق رکھنے والے اڑسٹھ سالہ جریش محمد نے کہا کہ وہ چالیس سے پچاس برس سے حج کی خواہش رکھتے تھے اور اس سال ان کا یہ خواب پورا ہوگیا۔

حج اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں شامل ہے اور ہر صاحبِ استطاعت مسلمان پر زندگی میں ایک بار اس کی ادائیگی فرض ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں