واشنگٹن/تہران (ایم این این): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ تنازع کے خاتمے کے لیے مجوزہ امن منصوبہ اسرائیل سمیت اپنے اتحادیوں کے ساتھ شیئر کر دیا ہے، جبکہ جنگ بندی برقرار رکھنے اور مذاکرات کو آگے بڑھانے کی سفارتی کوششیں جاری ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مجوزہ منصوبے میں آبنائے ہرمز کو تجارتی جہاز رانی کے لیے دوبارہ کھولنے، ایرانی بندرگاہوں پر امریکی پابندیاں ختم کرنے اور تہران کو تقریباً 12 ارب ڈالر کے منجمد فنڈز تک دوبارہ رسائی دینے کی تجاویز شامل ہیں۔
مجوزہ فریم ورک کے تحت آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو 30 روز کے اندر جنگ سے پہلے کی سطح پر بحال کیا جائے گا، جبکہ ایران کے جوہری پروگرام پر باضابطہ مذاکرات شروع ہوں گے، جو ممکنہ طور پر 60 روز تک جاری رہ سکتے ہیں۔
مذاکرات میں ایران کے اعلیٰ افزودہ یورینیم کے ذخائر، مزید افزودگی پر عارضی پابندی، بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی نگرانی، اور ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار نہ بنانے کے باضابطہ عزم جیسے نکات شامل ہوں گے۔
وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ مذاکرات ابھی جاری ہیں اور کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا۔ وائٹ ہاؤس کے نائب چیف آف اسٹاف اسٹیفن ملر نے کہا کہ ایران نے کئی اہم رعایتیں دی ہیں، تاہم معاہدہ اس وقت تک مکمل نہیں سمجھا جائے گا جب تک تمام شرائط پر اتفاق نہ ہو جائے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی کہا کہ واشنگٹن اور تہران معاہدے کے قریب ہیں، لیکن یورینیم کے ذخائر اور افزودگی کے مستقبل کے حوالے سے چند معاملات پر بات چیت جاری ہے۔
ادھر امریکا نے ایران کے فوجی اور پاسدارانِ انقلاب سے متعلق مالیاتی نیٹ ورکس کے خلاف نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ نے ایرانی تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی ترسیل میں مبینہ طور پر شامل آٹھ بحری جہازوں اور 15 سے زائد کمپنیوں کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔
سفارتی پیش رفت کے باوجود خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق صوبہ بوشہر میں فضائی دفاعی نظام نے ایک نامعلوم دشمن طیارے کو مار گرایا، جبکہ امریکی حکام نے کسی بھی امریکی طیارے کے تباہ ہونے کی خبروں کی تردید کی ہے۔
ایرانی میڈیا نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ ایران کی مسلح افواج نے ملک کے جنوبی حصے سے مخصوص اہداف کی جانب میزائل داغے، جبکہ آبنائے ہرمز کے قریب بحری نقل و حرکت سے متعلق بھی تناؤ کی اطلاعات سامنے آئیں۔
ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا کہ تہران کسی بھی معاہدے کو وعدوں کے بجائے عملی اقدامات کی بنیاد پر پرکھے گا اور ایران اس وقت تک کوئی قدم نہیں اٹھائے گا جب تک دوسرا فریق پہلے عملی پیش رفت نہ کرے۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدے کی کوششوں میں مؤثر سفارتی کردار ادا کیا ہے۔


