مظفرآباد (ایم این این): کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے کارکنوں اور حامیوں نے راولاکوٹ کے نواحی علاقوں میں قائم اپنے تمام دھرنے ختم کر دیے اور آدھی رات کے بعد اپنے اپنے علاقوں کو واپس روانہ ہو گئے، جبکہ حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ پیش رفت بڑے پیمانے پر ممکنہ آپریشن کی اطلاعات کے بعد سامنے آئی۔
سرکاری حکام کے مطابق راولاکوٹ کے مشرقی کناروں پر قائم تینوں احتجاجی کیمپ مکمل طور پر خالی ہو گئے ہیں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مظاہرین کو اس بات کا احساس ہو گیا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی تیاری کر رہے ہیں۔
جے اے اے سی اور آزاد جموں و کشمیر حکومت کے درمیان کئی معاملات پر اختلافات جاری ہیں، جن میں سب سے اہم مطالبہ قانون ساز اسمبلی میں مہاجرین جموں و کشمیر کے لیے مختص 12 نشستوں کے خاتمے کا ہے۔
پونچھ کے ڈویژنل کمشنر سردار وحید خان نے بتایا کہ تمام مظاہرین احتجاجی مقامات چھوڑ کر واپس جا چکے ہیں۔ ان کے مطابق انتظامیہ نے رینجرز، فیڈرل کانسٹیبلری، اسلام آباد پولیس اور آزاد کشمیر پولیس پر مشتمل تقریباً ایک ہزار اہلکاروں کا خصوصی دستہ تشکیل دیا تھا جبکہ درجنوں بکتر بند گاڑیوں کے ساتھ فلیگ مارچ بھی کیا گیا۔
کمشنر کے مطابق حکام نے جے اے اے سی کے اہم رہنما عمر نذیر کشمیری کی گرفتاری کی کوشش بھی کی تھی، جبکہ مقامی شخصیات کے ذریعے پس پردہ رابطوں کا سلسلہ بھی جاری رہا تاکہ صورتحال کو پرامن انداز میں حل کیا جا سکے۔
انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ جب احتجاجی کیمپوں تک بڑے پیمانے پر سیکیورٹی فورسز کی تعیناتی کی اطلاعات پہنچیں تو کارکنوں میں بے چینی پھیل گئی اور بالآخر تمام دھرنے ختم کر دیے گئے۔
حکام نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت جاری کی ہے کہ مختلف مقدمات میں مطلوب افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔ ساتھ ہی جے اے اے سی کے 31 مرکزی رہنماؤں کے قومی شناختی کارڈز اور پاسپورٹس بھی بلاک کر دیے گئے ہیں۔
انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ ریاستی رٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
دوسری جانب راولاکوٹ میں مسلسل تیسرے روز مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال رہی۔ جمعرات کو ہونے والے تصادم میں ایک مظاہرہ کرنے والا جاں بحق جبکہ چار افراد زخمی بھی ہوئے۔
قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے جے اے اے سی سے مطالبہ کیا کہ وہ مہاجرین کی 12 نشستوں کے مستقبل کا فیصلہ آزاد کشمیر کے عوام پر چھوڑ دے۔
یاد رہے کہ آزاد کشمیر حکومت نے 9 جون کی ہڑتال کے اعلان کے بعد جے اے اے سی کو کالعدم قرار دیا تھا اور الزام عائد کیا تھا کہ تنظیم امن و امان اور ریاستی سلامتی کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث ہے۔ بعد ازاں متعدد رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں، بعض کے خلاف بغاوت کے مقدمات قائم کیے گئے جبکہ اہم رہنماؤں کی گرفتاری پر انعامات کا بھی اعلان کیا گیا۔
راولاکوٹ میں پہلے ہونے والے پرتشدد احتجاج کے نتیجے میں کم از کم چار قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں اور سات شہریوں کی ہلاکت کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا۔ صورتحال کے پیش نظر وفاقی نیم فوجی دستے بھی تعینات کیے گئے ہیں جبکہ عوام کو 20 جون تک غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔


