اسلام آباد (ایم این این): پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما اسد قیصر نے ہفتے کے روز دعویٰ کیا ہے کہ انہیں اسلام آباد ایئرپورٹ پہنچنے سے روکا گیا، جس کے باعث گلگت بلتستان میں جاری انتخابی مہم کے سلسلے میں اسکردو جانے والی ان کی پرواز چھوٹ گئی۔
اسد قیصر نے الزام لگایا کہ پنجاب پولیس نے ایئرپورٹ جانے والے راستے بند کر دیے اور انہیں ایئرپورٹ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ انہیں اس وقت تک روکے رکھا گیا جب تک پرواز روانہ نہیں ہو گئی، جس سے نہ صرف وہ خود متاثر ہوئے بلکہ عام مسافروں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے اس واقعے کو سیاسی انتقام اور انتخابی عمل میں مداخلت قرار دیتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان میں تحریک انصاف کی انتخابی مہم میں رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں۔
اسد قیصر نے کہا کہ تمام تر رکاوٹوں کے باوجود وہ انتخابی مہم جاری رکھیں گے اور انہیں یقین ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام ایسے ہتھکنڈوں کو مسترد کرتے ہوئے آزادانہ طور پر اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر ویڈیوز بھی شیئر کیں جن میں ایئرپورٹ کے داخلی راستے پر گاڑیوں کی طویل قطاریں دیکھی جا سکتی ہیں۔ ایک ویڈیو میں وہ پولیس اہلکاروں سے گفتگو کرتے ہوئے دیگر مسافروں کو راستہ دینے کی درخواست کرتے بھی دکھائی دیے۔
یہ پیش رفت ایک روز بعد سامنے آئی ہے جب تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی جنید اکبر اور ان کی ٹیم کو 7 جون کو ہونے والے انتخابات کی مہم کے دوران گلگت بلتستان سے نکالے جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔
اسلام آباد پولیس کے ایک اہلکار نے اس معاملے سے لاتعلقی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایئرپورٹ اسلام آباد پولیس کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔
تحریک انصاف کے سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ وفاقی وزرا گلگت بلتستان میں انتخابی مہم چلا رہے ہیں، لیکن تحریک انصاف کے رہنماؤں کو ایسا کرنے سے روکا جا رہا ہے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن کی خاموشی پر بھی تنقید کی۔
سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجا ناصر عباس نے اسد قیصر کو روکنے کے مبینہ واقعے کو جمہوری اقدار اور سیاسی آزادی کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔
سابق قائد حزب اختلاف عمر ایوب نے اسے قبل از انتخاب دھاندلی قرار دیا۔
دوسری جانب مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما خواجہ سعد رفیق نے بھی کہا کہ وہ بھی اسکردو جانے والی اپنی پرواز سے محروم رہے کیونکہ ایئرپورٹ جانے والی ٹریفک مبینہ طور پر بند تھی، جس سے کئی مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔
گلگت بلتستان میں چار ماہ کی تاخیر کے بعد 7 جون کو قانون ساز اسمبلی کے انتخابات ہونے جا رہے ہیں، جس کے لیے مختلف سیاسی جماعتوں نے اپنی انتخابی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔


