درہ آدم خیل میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن جاری، مزید آٹھ دہشتگرد ہلاک، تعداد 13 ہو گئی

0
9

پشاور (ایم این این): خیبر پختونخوا کے علاقے درہ آدم خیل میں سکیورٹی فورسز کے جاری آپریشن کے دوسرے روز مزید آٹھ دہشتگرد ہلاک ہو گئے، جن میں دو افغان باشندے بھی شامل ہیں۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک دہشتگرد کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے وابستہ طارق گیدڑ گروپ کے رکن تھے۔

اس تازہ کارروائی کے بعد آپریشن میں مارے جانے والے دہشتگردوں کی مجموعی تعداد 13 ہو گئی ہے۔ جمعے کو آپریشن کے آغاز پر پانچ دہشتگرد مارے گئے تھے۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق درہ آدم خیل میں دہشتگردوں کی موجودگی کی مصدقہ اطلاعات ملنے پر آپریشن شروع کیا گیا۔ فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر مختلف ٹھکانوں پر کارروائی کی، جو تاحال جاری ہے۔

ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں زورہ کلے کا داؤد، حمزہ، قاری زینت اللہ اور قاری لونگین شامل ہیں۔ قاری زینت اللہ اور قاری لونگین افغان شہری تھے جبکہ دیگر ہلاک دہشتگردوں کی شناخت کا عمل جاری ہے۔

سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ علاقے کو مکمل طور پر گھیرے میں لے لیا گیا ہے اور کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔ فورسز گھر گھر تلاشی کے ساتھ قریبی پہاڑی علاقوں میں بھی سرچ آپریشن کر رہی ہیں۔

حکام کے مطابق کارروائی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک علاقے سے آخری دہشتگرد کا خاتمہ نہیں ہو جاتا۔

طارق گیدڑ گروپ، جس کا نام سابق شدت پسند کمانڈر طارق آفریدی کے نام پر رکھا گیا، ماضی میں درہ آدم خیل اور گردونواح میں سرگرم رہا ہے۔ یہ گروپ سکیورٹی فورسز، قافلوں اور سرکاری تنصیبات پر حملوں میں ملوث رہا ہے۔ طارق آفریدی 2012 میں مارا گیا تھا، تاہم اس سے منسلک نیٹ ورک مختلف شکلوں میں فعال رہا۔

درہ آدم خیل پشاور کے جنوب میں واقع ہے اور کوہاٹ سے متصل ہے۔ یہ علاقہ ماضی میں کئی عسکریت پسند حملوں اور فوجی کارروائیوں کا مرکز رہا ہے۔

2021 میں افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات میں دوبارہ اضافہ دیکھا گیا ہے۔

پاکستان متعدد بار افغان عبوری حکومت سے مطالبہ کر چکا ہے کہ افغان سرزمین پر موجود دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے خلاف کارروائی کی جائے، خصوصاً کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے وابستہ عناصر کے خلاف، تاہم پاکستانی حکام کے مطابق اس حوالے سے خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی۔

اس ماہ کے آغاز میں بھی سکیورٹی فورسز نے ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان میں الگ الگ کارروائیوں کے دوران پانچ دہشتگرد ہلاک کیے تھے، جبکہ اپریل کے اوائل میں شمالی وزیرستان میں پاک افغان سرحد کے قریب آٹھ دہشتگرد مارے گئے تھے۔

خیبر پختونخوا میں حالیہ مہینوں کے دوران سکیورٹی فورسز نے دہشتگردی کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں تاکہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنائی جا سکے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں