نایاب بلیو مون اور مائیکرو مون کا دلکش منظر آسمان پر دیکھا گیا

0
9

اسلام آباد (ایم این این): آسمان پر ایک نایاب فلکیاتی منظر دیکھنے میں آیا جب بلیو مون اور مائیکرو مون ایک ساتھ نمودار ہوئے، جس نے فلکیات کے شوقین افراد کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی۔

اگرچہ اسے بلیو مون کہا جاتا ہے، لیکن چاند نیلا نظر نہیں آیا۔ بلیو مون کی اصطلاح چاند کے رنگ کے بجائے اس کے وقت سے متعلق ہے۔

یہ مکمل چاند مئی کے مہینے کا دوسرا مکمل چاند تھا، اسی لیے اسے بلیو مون قرار دیا گیا۔ قمری گردش کے باعث ایسا منظر عموماً دو سے تین سال میں ایک بار دیکھنے کو ملتا ہے۔

اسی واقعے سے “ونس اِن اے بلیو مون” جیسا معروف محاورہ بھی منسوب ہے، جو کسی نایاب واقعے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

ماہرین فلکیات کے مطابق اس سے قبل بلیو مون انیس اگست دو ہزار چوبیس کو دیکھا گیا تھا، جبکہ اگلا موسمی بلیو مون بیس مئی دو ہزار ستائیس کو متوقع ہے۔

اس نایاب منظر کو مزید منفرد بنانے والی بات یہ تھی کہ یہ مائیکرو مون بھی تھا۔

مائیکرو مون اس وقت ہوتا ہے جب مکمل چاند زمین سے اپنے مدار کے سب سے دور مقام پر ہو۔ اس وجہ سے چاند معمول کے مکمل چاند کے مقابلے میں کچھ چھوٹا اور مدھم دکھائی دیا۔

ماہرین کے مطابق یہ فرق عام آنکھ سے واضح طور پر محسوس کرنا مشکل ہو سکتا تھا، تاہم فلکیاتی اعتبار سے یہ ایک غیر معمولی منظر تھا۔

سائنس دانوں نے بتایا کہ اگرچہ چاند کا فاصلہ سمندری لہروں پر معمولی اثر ڈال سکتا ہے، لیکن مائیکرو مون کے دوران یہ فرق بہت کم ہوتا ہے۔

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ بلیو مون یا مائیکرو مون جیسے قمری واقعات کا زلزلوں، آتش فشاں پھٹنے یا شدید موسمی تبدیلیوں سے کوئی سائنسی تعلق ثابت نہیں ہے۔

صدیوں سے مکمل چاند انسانی دلچسپی کا مرکز رہا ہے اور اس نے تہذیبوں میں داستانوں، کیلنڈروں، شاعری، سمندری سفر اور سائنسی تحقیق کو متاثر کیا ہے۔ بلیو مون اور مائیکرو مون کے اس نایاب منظر نے ایک بار پھر دنیا بھر میں آسمان سے محبت رکھنے والوں کو مسحور کر دیا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں