واشنگٹن (ایم این این): امریکی تجارتی نمائندہ دفتر (یو ایس ٹی آر) نے پاکستان، بھارت سمیت 60 معیشتوں سے درآمد ہونے والی اشیا پر نئے ٹیرف عائد کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے، یہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہ ان ممالک نے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد روکنے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق مجوزہ ٹیرف 10 سے 12.5 فیصد تک ہوں گے اور حتمی فیصلے سے قبل عوامی مشاورت اور تبصروں کے مرحلے سے گزریں گے۔ یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اپنے تجارتی اور ٹیرف ایجنڈے کو قانونی چیلنجز کے بعد دوبارہ فعال بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
یو ایس ٹی آر نے کہا کہ چین، یورپی یونین، جاپان اور دیگر تجارتی شراکت داروں کے خلاف تحقیقات کی گئیں تاکہ یہ جانچا جا سکے کہ آیا انہوں نے جبری مشقت سے تیار کردہ اشیا کی درآمد روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے یا نہیں اور ان پالیسیوں کا امریکی تجارت پر کیا اثر پڑا۔
تحقیقات کے نتیجے میں یو ایس ٹی آر نے قرار دیا کہ 54 معیشتیں، جن میں چین، بھارت، ویتنام، تائیوان اور برطانیہ شامل ہیں، جبری مشقت سے تیار شدہ مصنوعات کی درآمد پر پابندیوں کو مؤثر انداز میں نافذ کرنے میں ناکام رہیں۔
مزید چھ معیشتوں — پاکستان، کینیڈا، میکسیکو، انڈونیشیا، ایکواڈور اور یورپی یونین — کے بارے میں کہا گیا کہ انہوں نے ایسی پابندیوں پر مؤثر عمل درآمد نہیں کیا۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے کہا کہ اہم تجارتی شراکت داروں کی جانب سے جبری مشقت سے تیار کردہ اشیا کی درآمد روکنے میں ناکامی ناقابل قبول ہے اور اس سے امریکی کارکنوں کو عالمی منڈی میں غیر مساوی مقابلے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
تجویز کے تحت پاکستان، کینیڈا، میکسیکو، یورپی یونین، بنگلہ دیش، ملائیشیا، تائیوان، برطانیہ اور بعض دیگر ممالک سے درآمدات پر 10 فیصد اضافی ڈیوٹی عائد کی جائے گی، جبکہ باقی 45 ممالک کی مصنوعات پر 12.5 فیصد تک اضافی ٹیرف لگایا جائے گا۔
کچھ اشیا، جن میں گائے کا گوشت، کافی، بعض پھل اور خشک میوہ جات شامل ہیں، مجوزہ ٹیرف سے مستثنیٰ ہوں گی۔ اسی طرح شمالی امریکہ کے آزاد تجارتی معاہدوں کے تحت آنے والی بعض مصنوعات بھی ان محصولات سے مستثنیٰ رہیں گی۔
یو ایس ٹی آر نے عوام سے 6 جولائی تک تحریری تجاویز اور اعتراضات طلب کیے ہیں، جس کے بعد سماعتیں منعقد کی جائیں گی اور حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
دوسری جانب چین نے امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں جبری مشقت کا کوئی وجود نہیں اور واشنگٹن اس معاملے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ یورپی یونین نے بھی مجوزہ ٹیرف کو بلا جواز قرار دیا ہے جبکہ سوئٹزرلینڈ نے بھی امریکی نتائج کو مسترد کرتے ہوئے اپنے مؤقف کا دفاع کیا ہے۔


