راولپنڈی (ایم این این): پاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے منگل کے روز ایک بار پھر بانی پی ٹی آئی عمران خان سے وابستگی کا اعادہ کرتے ہوئے سیاسی مسائل کے حل کے لیے مذاکرات اور خیبر پختونخوا کے بجٹ پر مشاورت کی ضرورت پر زور دیا۔
اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبائی حکومت بجٹ کی منظوری کے عمل کو آگے بڑھائے گی۔ تاہم اس موقع پر علیمہ خان نے مداخلت کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بغیر بجٹ کا عمل کیوں آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
علیمہ خان نے کہا کہ گزشتہ سال بھی عمران خان نے ہدایت دی تھی کہ بجٹ پر ان سے مشاورت کی جائے، لہٰذا حتمی منظوری سے قبل ان سے ملاقات ضروری ہے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ پارٹی کا اولین مطالبہ عمران خان کو علاج کی غرض سے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ انہیں اپنے اہل خانہ اور ذاتی معالج کی موجودگی میں علاج کی سہولت دی جائے اور الزام عائد کیا کہ ملاقاتوں پر پابندی مخصوص مقاصد کے تحت لگائی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جیل میں موجود عمران خان کے فیصلے آج بھی پارٹی کے لیے حتمی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے خیبر پختونخوا حکومت میں فارورڈ بلاک کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں پروپیگنڈا قرار دیا۔
سہیل آفریدی کے مطابق صوبائی کابینہ بجٹ تجاویز کی منظوری دے چکی ہے اور حکومت سرپلس بجٹ پیش نہیں کرے گی بلکہ صحت، تعلیم، زراعت، نوجوانوں کی ترقی اور جنگلات کے فروغ پر مشتمل عوام دوست بجٹ متعارف کرائے گی۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ سیاسی مسائل کا حل مذاکرات میں ہے اور ان کی جماعت ماضی کی طرح آج بھی تصادم کی سیاست پر یقین نہیں رکھتی۔
اڈیالہ روڈ کے دھگل چیک پوسٹ کے قریب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ خیبر پختونخوا سے متعلق معاملات پر پاکستان پیپلز پارٹی سے بات چیت ہوئی ہے، تاہم وفاقی سطح پر کوئی مذاکرات نہیں ہوئے۔ مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ حکومت فی الحال اس معاملے میں سنجیدہ نظر نہیں آتی۔
گوہر علی خان نے کہا کہ پورا ملک عمران خان کی صورتحال پر تشویش رکھتا ہے اور پی ٹی آئی خود کو پاکستان کا ایک اہم حصہ سمجھتی ہے۔ سائفر کیس کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ عمران خان اس مقدمے میں بری ہو چکے ہیں اور یہ معاملہ اب ماضی کا حصہ بن چکا ہے۔
انہوں نے سیاسی رابطوں میں تاخیر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے تمام فریقوں کے درمیان مستقل رابطے کے لیے ہاٹ لائن یا مؤثر مواصلاتی نظام قائم کرنے کی تجویز بھی دی۔
ادھر پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے صدر جنید اکبر نے پارٹی میں اختلافات اور فارورڈ بلاک کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر عمران خان پارٹی کارکردگی سے مطمئن نہ ہوتے تو عہدیداروں کو خود تبدیل کر دیتے۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی کے تمام 92 ارکان اپنی سیاسی حیثیت عمران خان کے مرہون منت ہیں اور بجٹ کے معاملے میں پارٹی پالیسی کے مطابق ووٹ دیں گے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ بعض ارکان کے تحفظات موجود ہیں اور بتایا کہ وہ سات ناراض اراکین سے ملاقات کر چکے ہیں۔
دریں اثنا جیل ذرائع کے مطابق چار رکنی طبی ٹیم نے اڈیالہ جیل میں عمران خان کا تفصیلی طبی معائنہ کیا۔ ٹیم نے ان کی آنکھوں سمیت مجموعی صحت کا جائزہ لیا۔
جیل ذرائع کے مطابق عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے درمیان بھی تقریباً 50 منٹ تک ملاقات ہوئی جس میں مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
علیمہ خان نے ایک بار پھر کہا کہ اپنے بھائی سے ملاقات ان کا آئینی اور قانونی حق ہے اور اگر خاندان کو ملاقات کی اجازت نہ دی گئی تو وہ خاموش نہیں رہیں گے۔ انہوں نے عمران خان اور سابق آرمی چیف کے درمیان کسی ملاقات کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے انہیں جھوٹا پروپیگنڈا قرار دیا۔


