واشنگٹن/اسلام آباد (ایم این این): امریکی ایوانِ نمائندگان نے بدھ کے روز ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائیوں کو کانگریس کی منظوری سے مشروط کرنے کی غرض سے ڈیموکریٹس کی پیش کردہ ایک قرارداد منظور کر لی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ اور اس کے نتائج کے بارے میں کانگریس میں تشویش بڑھ رہی ہے، حتیٰ کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اپنی جماعت کے بعض ارکان بھی فکر مند ہیں۔
215 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہونے والی اس قرارداد کے حق میں چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا۔ اس پیش رفت کو ٹرمپ انتظامیہ کی ایران پالیسی پر بڑھتے ہوئے سیاسی دباؤ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے حوالے سے مثبت پیش رفت کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں فریق کسی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے قریب پہنچ چکے ہیں اور ممکن ہے کہ ہفتے کے اختتام تک دستاویزات پر دستخط کی جانب پیش رفت ہو جائے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ لبنان سے متعلق مذاکرات اور ایران کے ساتھ تنازع پر ہونے والی بات چیت کو الگ الگ رکھا جانا چاہیے، حالانکہ تہران ان دونوں معاملات کو ایک دوسرے سے منسلک قرار دیتا ہے۔
ادھر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایوانِ نمائندگان کی خارجہ امور کمیٹی کے اجلاس میں اعلان کیا کہ ایران کے خلاف امریکی فوجی مہم ’’آپریشن ایپک فیوری‘‘ ختم ہو چکی ہے اور امریکہ اب ایران کے اندر مسلسل فوجی حملے نہیں کر رہا۔
روبیو نے کہا کہ آئندہ کسی بھی امریکی فوجی کارروائی کی نوعیت دفاعی ہوگی اور اسے جاری جارحانہ مہم کا حصہ نہیں سمجھا جائے گا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ آپریشن کے دوران ایران کی دفاعی صنعت، میزائل لانچر صلاحیت، ڈرون ذخائر، فضائیہ اور روایتی بحری قوت کو شدید نقصان پہنچایا گیا، جس کے باعث تہران کی علاقائی عسکری صلاحیت نمایاں طور پر کمزور ہوئی۔
روبیو کے مطابق یہی آپریشن کا بنیادی مقصد تھا اور اسی بنیاد پر واشنگٹن اسے کامیاب فوجی مہم قرار دیتا ہے۔
تاہم سماعت کے دوران ڈیموکریٹ رکن کانگریس سارا جیکبز نے انتظامیہ کے مؤقف کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اگر جنگ واقعی ختم ہو چکی ہے تو پھر ہزاروں امریکی فوجی اب بھی مشرق وسطیٰ میں خطرات کا سامنا کیوں کر رہے ہیں اور آبنائے ہرمز اب تک بند کیوں ہے۔
انہوں نے کہا کہ آپریشن کا نام تبدیل کرنے سے زمینی حقائق تبدیل نہیں ہوتے اور امریکی فوجی بدستور خطرے میں ہیں۔
جیکبز نے امریکی انٹیلی جنس رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران اپنی عسکری صنعتی صلاحیت توقع سے زیادہ تیزی سے بحال کر رہا ہے اور اب بھی اس کے پاس میزائلوں اور متحرک لانچرز کا بڑا ذخیرہ موجود ہے۔
روبیو نے ان دعوؤں سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسی انٹیلی جنس رپورٹس سے واقف نہیں اور حساس معلومات کو عوامی سطح پر زیر بحث نہیں لایا جا سکتا۔
اسی دوران امریکی وفاقی نگران اداروں نے ’’آپریشن ایپک فیوری‘‘ کے اخراجات کا باضابطہ جائزہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ حکام کے مطابق محکمہ جنگ، محکمہ خارجہ اور امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی کے انسپکٹر جنرل اس نگرانی کے عمل کی قیادت کریں گے تاکہ مشن پر خرچ ہونے والے فنڈز کے استعمال میں شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنایا جا سکے۔
روبیو نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ایران کے اعلیٰ سطح پر افزودہ یورینیم کے ذخائر اب بھی واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کا مرکزی موضوع ہیں اور ایران نے تاحال کسی حتمی امن معاہدے کی باضابطہ منظوری نہیں دی۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ امریکہ ایران میں مثبت سیاسی تبدیلی کا خیرمقدم کرے گا، تاہم حکومت کی تبدیلی کبھی بھی امریکی فوجی مہم کا مقصد نہیں رہی۔
سماعت کے دوران ڈیموکریٹ رہنما گریگوری میکس نے بھی ٹرمپ انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ نے امریکی عوام سے نئی جنگوں سے گریز کا وعدہ کیا تھا لیکن ان کی پالیسیوں نے امریکہ کو ایک مرتبہ پھر مشرق وسطیٰ کے تنازع میں الجھا دیا ہے۔
اگرچہ ٹرمپ انتظامیہ ’’آپریشن ایپک فیوری‘‘ کو کامیاب قرار دیتے ہوئے اس کے فوجی مرحلے کے خاتمے کا اعلان کر رہی ہے، لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ خطے میں عدم استحکام، امریکی افواج کو درپیش خطرات اور ایران کی مستقبل کی عسکری صلاحیتوں کے بارے میں خدشات اب بھی برقرار ہیں۔


