گلگت (ایم این این): گلگت بلتستان کے چیف الیکشن کمشنر راجہ شہباز خان نے کہا ہے کہ انتخابی نتائج کے حتمی نوٹیفکیشن قانون کے مطابق 14 روز کے اندر جاری کر دیے جائیں گے، تاہم دور دراز علاقوں سے نتائج موصول ہونے اور ان کی تکمیل میں وقت لگ رہا ہے۔
گلگت بلتستان الیکشن کمیشن کے جاری کردہ بیان کے مطابق انتخابی مرحلہ پُرامن انداز میں مکمل ہو چکا ہے اور حتمی نتائج مرتب کرنے کا عمل جاری ہے۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ الیکشن ایکٹ کی دفعہ 98 کے تحت تمام نتائج کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔
الیکشن کمیشن اس وقت انتخابات سے متعلق نو درخواستوں کی سماعت کر رہا ہے۔ تین درخواستوں کی سماعت مکمل ہو چکی ہے جبکہ باقی درخواستوں کی سماعت جلد مکمل کر لی جائے گی۔
کمیشن کے مطابق حلقہ جی بی اے-6 ہنزہ، جی بی اے-11 کھرمنگ، جی بی اے-23 گانچھے ٹو اور جی بی اے-24 گانچھے تھری کے لیے فارم 49 جاری کر دیا گیا ہے۔ پانچ حلقوں میں دوبارہ پولنگ کے احکامات جاری کیے گئے ہیں جبکہ دیگر حلقوں کے نتائج کو حتمی شکل دینے کا عمل جاری ہے۔
دوسری جانب گلگت بلتستان میں نئی حکومت کی تشکیل کے حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے درمیان تاحال اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔
7 جون کے انتخابات کے غیر سرکاری نتائج (فارم 47) کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی 11 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے، جبکہ مسلم لیگ (ن) نے 6 نشستیں حاصل کیں۔ تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدوار دو نشستوں پر کامیاب ہوئے، مجلس وحدت المسلمین نے ایک نشست حاصل کی جبکہ چار آزاد امیدوار کامیاب قرار پائے۔
دونوں جماعتوں کے سینئر رہنماؤں نے گلگت میں ملاقات کر کے حکومت سازی کے مختلف فارمولوں پر تفصیلی غور کیا۔ پیپلز پارٹی نے مذاکرات کو مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ تجاویز مرکزی قیادت کے سامنے پیش کی جائیں گی۔ ملاقات میں سیاسی تعاون اور دیگر قومی امور بھی زیر بحث آئے۔
پیپلز پارٹی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ عوام نے انہیں سب سے بڑی جماعت بنا کر حکومت سازی کا مینڈیٹ دیا ہے اور تمام فیصلے جمہوری اصولوں، سیاسی مشاورت اور عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جائیں گے۔
مسلم لیگ (ن) نے بھی تصدیق کی کہ مختلف تجاویز پر غور کیا گیا ہے اور آئندہ کا لائحہ عمل مرکزی قیادت سے مشاورت کے بعد طے کیا جائے گا۔
ادھر الیکشن کمیشن نے حلقہ جی بی اے-09 سکردو تھری میں انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات پر ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا حکم دیا ہے۔ کمیشن نے ہدایت کی ہے کہ تمام امیدواروں اور ان کے مجاز نمائندوں کی موجودگی میں شفاف انداز سے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی جائے۔
جی بی اے-08 سکردو ٹو میں کمیشن نے 10 پولنگ اسٹیشنوں پر دوبارہ پولنگ کا سابقہ حکم واپس لے لیا، جس کے بعد مجلس وحدت المسلمین کے امیدوار کاظم میثم کو فارم 49 کے ذریعے کامیاب قرار دے دیا گیا۔
دریں اثنا، حلقہ جی بی اے-16 دیامر ٹو میں پیپلز پارٹی کے امیدوار عطااللہ کے حامیوں نے چوتھے روز بھی احتجاج جاری رکھا۔ مظاہرین نے قراقرم ہائی وے بند کر کے پوسٹل بیلٹس کی گنتی، حتمی نتائج کے فوری اعلان اور تین پولنگ اسٹیشنوں پر دوبارہ پولنگ کے فیصلے کی مخالفت کی۔ مظاہرین نے اعلان کیا کہ سرکاری نتائج جاری ہونے تک ان کا احتجاج جاری رہے گا۔


