اردو خبر:
تہران/اسلام آباد (ایم این این); ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کے روز کہا کہ لبنان ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی یادداشت کا ایک اہم حصہ ہے اور وہاں کی صورتحال پر قریبی نظر رکھی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام اس عبوری معاہدے کا حصہ ہے۔ بقائی نے لبنانی عوام سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران اپنی پالیسی ان حالات کے مطابق طے کرے گا جنہیں وہ اسرائیلی کارروائیوں کا نتیجہ قرار دیتا ہے۔
ان کے مطابق مجوزہ معاہدے میں لبنان کو واضح طور پر شامل کیا گیا ہے جس کا مقصد تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے اور ریاستوں کی خودمختاری کے احترام کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حتمی فیصلے جلد متوقع ہیں جبکہ دستخطی تقریب سے قبل ایران کے اعلیٰ سفارتی وفود مختلف ممالک کے دورے بھی کریں گے۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا کہ ایران اور امریکا کے درمیان اس معاہدے کی دستخطی تقریب 19 جون کو جنیوا میں ہوگی اور پاکستان اس کی میزبانی کرے گا۔ انہوں نے قومی اسمبلی میں اس پیش رفت کو اہم سفارتی کامیابی قرار دیا۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق معاہدے کے مسودے میں سمندری خدمات اور آبنائے ہرمز سے متعلق شقیں بھی شامل کی گئی ہیں جبکہ امریکا نے بعض سمندری فیسوں کو قبول کیا ہے۔
حزب اللہ نے ایران کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ لبنان کی شمولیت ان کے مؤقف کی تائید ہے اور تنظیم اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے پرعزم ہے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ آبنائے ہرمز طویل مدت میں آزاد اور بغیر رکاوٹ کے کھلی رہے گی جبکہ دونوں ممالک کے نمائندے دستخطی تقریب میں شریک ہوں گے۔
اسلامی تعاون تنظیم نے معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے پاکستان اور قطر کے کردار کو سراہا اور مکمل عملدرآمد کی امید ظاہر کی۔
متحدہ عرب امارات نے بھی معاہدے کی حمایت کرتے ہوئے خطے میں امن اور آزادیِ نقل و حرکت پر زور دیا۔
تاہم اسرائیل کے دائیں بازو کے دو وزراء نے معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کی سلامتی کے لیے ناکافی ہے اور حزب اللہ کے خلاف کارروائی جاری رہنی چاہیے۔
سعودی عرب نے معاہدے کا خیر مقدم کیا مگر کہا کہ دیرپا امن کے لیے علاقائی سلامتی اور عدم مداخلت کے اصولوں کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
ادھر قطر کی ثالثی میں دونوں ممالک کے درمیان جنیوا میں رسمی دستخط سے قبل دوحہ میں مزید بالواسطہ مذاکرات متوقع ہیں۔


