امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی امن معاہدہ طے، جنگ بندی کا اعلان، آبنائے ہرمز بحری آمدورفت کے لیے کھول دی گئی

0
7

واشنگٹن/تہران (ایم این این): مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے کی جانب ایک بڑی سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی اور دشمنی کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کو عالمی بحری تجارت کے لیے دوبارہ کھولنے اور امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

یہ پیش رفت کئی ماہ سے جاری سفارتی کوششوں، بالواسطہ مذاکرات اور علاقائی ممالک کی ثالثی کے نتیجے میں سامنے آئی ہے۔ معاہدے کا مقصد امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تنازع کا خاتمہ اور پورے خطے میں استحکام کو فروغ دینا ہے۔

ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ معاہدہ مکمل ہو چکا ہے۔

انہوں نے کہا، "تمام فریقوں کو مبارک ہو۔ میں آبنائے ہرمز کو بلا معاوضہ عالمی بحری آمدورفت کے لیے فوری طور پر کھولنے اور ساتھ ہی امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کی منظوری دیتا ہوں۔ دنیا کے جہاز اپنا سفر شروع کریں اور تیل کی روانی بحال ہو جائے۔”

آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل تجارت کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ دسمبر میں ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کے بعد اس راستے پر شدید کشیدگی پیدا ہو گئی تھی جس کے باعث عالمی منڈیوں میں بے چینی دیکھی جا رہی تھی۔

معاہدے کا ابتدائی اعلان وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کیا۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان طویل مذاکرات کے بعد امن معاہدہ طے پا گیا ہے اور دونوں ممالک نے تمام محاذوں پر فوری اور مستقل جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ لبنان سمیت تمام علاقوں میں فوجی کارروائیاں فوری طور پر بند کر دی جائیں گی جبکہ معاہدے پر باضابطہ دستخط انیس جون کو سوئٹزرلینڈ میں ہوں گے۔

انہوں نے امریکہ اور ایران کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک نے تنازع کے حل کے لیے سفارت کاری کو ترجیح دی۔ وزیراعظم نے قطر، سعودی عرب اور ترکیہ کی قیادت کو بھی خصوصی خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے مذاکرات کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔

انہوں نے بتایا کہ دستخطی تقریب سے قبل تکنیکی مذاکرات اور عمل درآمد سے متعلق اجلاس منعقد ہوں گے تاکہ معاہدے کی تفصیلات کو حتمی شکل دی جا سکے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات رکھتا ہے اور حالیہ تنازعات کے باوجود بہت سی غلط فہمیاں اب ختم ہونے کے قریب ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے مذاکرات اور مکالمے کا راستہ اختیار کرنے کی حمایت کی ہے۔

مسعود پزشکیان کے مطابق جنگ اور مذاکرات سے متعلق فیصلوں کا اختیار سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے پاس ہے اور کونسل نے واضح کیا ہے کہ مسائل کے حل کے لیے سفارت کاری جاری رکھی جائے گی۔

دوسری جانب روسی صدر ولادیمیر پوتن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان بھی ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں ایران کے ساتھ مجوزہ مفاہمتی یادداشت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

کریملن کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کیا جبکہ روس نے خطے میں امن کے قیام کے لیے مذاکراتی عمل کی حمایت جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔

سفارتی ذرائع کے مطابق ابتدائی مفاہمتی یادداشت چودہ نکاتی فریم ورک پر مشتمل ہے۔ ان نکات میں فوری جنگ بندی، آبنائے ہرمز کی بحالی، امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ، ساٹھ روزہ عبوری امن مدت، نئی پابندیوں کا خاتمہ، ایرانی منجمد اثاثوں کی جزوی بحالی اور مرحلہ وار پابندیوں میں نرمی شامل ہے۔

مجوزہ فریم ورک میں ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار نہ بنانے کی یقین دہانی بھی شامل ہے جبکہ یورینیم افزودگی، معائنہ جاتی نظام، جوہری پروگرام کی مستقبل کی حدود اور پابندیوں کے مستقل خاتمے جیسے معاملات پر آئندہ ساٹھ دنوں میں مزید مذاکرات ہوں گے۔

قطر کی وزارت خارجہ نے بھی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت خطے میں پائیدار امن اور معاشی استحکام کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ وزارت کے مطابق معاہدہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی آزادی کو یقینی بنانے میں مدد دے گا اور عالمی معیشت کے لیے مثبت نتائج مرتب کرے گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ معاہدے کے بعد عالمی تیل منڈیوں میں استحکام آئے گا، توانائی کی ترسیل بہتر ہوگی اور خطے میں جنگ کے خطرات میں نمایاں کمی واقع ہو سکتی ہے۔

مبصرین کے مطابق اگر یہ معاہدہ کامیابی سے نافذ ہو جاتا ہے تو یہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان سب سے اہم سفارتی پیش رفت ثابت ہوگا اور مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کے قیام کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں