اسلام آباد (ایم این این): جیو نیوز کی محرم ٹرانسمیشن سے متعلق کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے اپنی حتمی سفارشات مرتب کرنے سے قبل اسلامی نظریاتی کونسل (سی آئی آئی) سے باضابطہ رہنمائی لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ فیصلہ 30 جون کو لاہور میں ہونے والے پیمرا کونسل آف کمپلینٹس کے اجلاس میں کیا گیا، جہاں محرم کی متنازع نشریات سے متعلق پیمرا اتھارٹی کی جانب سے بھجوائے گئے ریفرنس کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں غور و خوض کے بعد کونسل نے فیصلہ کیا کہ معاملے کے آئینی اور مذہبی دونوں پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے حاصل کی جائے تاکہ حتمی سفارشات مرتب کی جا سکیں۔
پیمرا نے اسلامی نظریاتی کونسل سے استفسار کیا ہے کہ جیو نیوز کے خلاف اب تک کیے گئے اقدامات، جن میں نشریاتی لائسنس کی معطلی، غیر مشروط عوامی معافی اور دیگر اصلاحی اقدامات شامل ہیں، آیا اسلامی تعلیمات کے مطابق کافی ہیں یا مزید کارروائی کی ضرورت ہے۔
کونسل نے یہ بھی درخواست کی ہے کہ اگر موجودہ اقدامات ناکافی سمجھے جائیں تو اسلامی اصولوں کے مطابق مزید کیا اقدامات کیے جانے چاہییں۔
سماعت کے دوران جیو نیوز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اپنے قانونی مشیر کے ہمراہ کونسل کے سامنے پیش ہوئے اور ادارے کی جانب سے کیے گئے اصلاحی اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے معطل نشریاتی لائسنس بحال کرنے کی درخواست کی۔
اپنے مشاہدات میں پیمرا کونسل نے آئین پاکستان کے آرٹیکل 19 کا بھی حوالہ دیا، جو آزادیٔ اظہار اور آزادیٔ صحافت کی ضمانت دیتا ہے، تاہم ان آزادیوں کو اسلام کی عظمت، قومی سلامتی، عوامی نظم، شائستگی، اخلاقیات اور دیگر آئینی تقاضوں کے تحت معقول پابندیوں سے مشروط بھی قرار دیتا ہے۔
پیمرا نے اسلامی نظریاتی کونسل سے درخواست کی ہے کہ وہ 8 جولائی 2026 تک، یعنی سات روز کے اندر، اپنی سفارشات پیش کرے۔
یہ تنازع عاشورہ کی خصوصی نشریات کے دوران مقدس اور قابل احترام مذہبی شخصیات کی بصری عکاسی پر سامنے آیا، جس پر عوامی اور مذہبی حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔
واقعے کے بعد پیمرا نے جیو نیوز کا نشریاتی لائسنس معطل کر دیا، جبکہ جیو نیوز نے غیر مشروط معافی جاری کرتے ہوئے اس نشریات کو غیر ارادی ادارتی غلطی قرار دیا۔
چینل انتظامیہ نے ذمہ دار افراد کے خلاف تادیبی کارروائی اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اضافی ادارتی حفاظتی اقدامات متعارف کرانے کا بھی اعلان کیا۔
یہ پہلا موقع ہے کہ پیمرا نے اس کیس میں قانونی جائزے کے ساتھ ساتھ اسلامی نظریاتی کونسل سے باضابطہ مذہبی رائے بھی طلب کی ہے۔
اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات سے یہ فیصلہ کرنے میں اہم مدد ملے گی کہ آیا موجودہ اقدامات کافی ہیں یا جیو نیوز کے خلاف مزید ریگولیٹری کارروائی کی ضرورت ہے۔


