تہران/اسلام آباد/واشنگٹن (MNN)؛ ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی مسلح افواج نے جاری جنگ کے دوران امریکی فوجی تنصیبات اور عسکری اثاثوں کو سنگین نقصان پہنچایا، جبکہ امریکی حکومتی اعداد و شمار اور حالیہ سامنے آنے والی تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن کو فوجی سازوسامان، تنصیبات، گولہ بارود اور افرادی قوت کے حوالے سے بڑے نقصانات کا سامنا ہے۔
ایرانی مسلح افواج کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف بریگیڈیئر جنرل کیومرث حیدری نے کہا ہے کہ ایرانی افواج نے میدان جنگ میں امریکی اور اس کے اتحادیوں کے اہداف کو ناکام بنا کر کامیابی حاصل کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایرانی مسلح افواج کو میدان جنگ میں اپنی کامیابی پر کوئی شک نہیں اور ان کے بقول امریکا اب ایرانی کارروائیوں کے ردعمل میں اقدامات کررہا ہے۔
تاہم امریکی دعووں کے برعکس ایرانی فوجی حکام کی جانب سے امریکی بحری جہازوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچانے کے دعووں کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق نہیں ہوسکی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ ستمبر میں دو امریکی بحری جنگی جہازوں کو نشانہ بنانے کی ایرانی کوشش ناکام رہی اور دونوں جہاز حملے سے بچ گئے۔
ایرانی فوجی ترجمان کا امریکی فوجی صلاحیتوں پر تنقید
ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا نے IRNA کے مطابق کہا کہ جنگ نے امریکی فوجی صلاحیتوں اور عالمی اثر و رسوخ کو درپیش چیلنجز کو نمایاں کیا ہے۔
انہوں نے عالمی نظام میں کثیر قطبی رجحان بڑھنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ مختلف ممالک اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے حوالے سے زیادہ آزادانہ پالیسی اختیار کررہے ہیں۔
ایرانی حکام کے یہ بیانات تہران کے سیاسی اور فوجی تجزیے کی عکاسی کرتے ہیں اور واشنگٹن کی جانب سے ان کی مختلف تشریح کی جاتی ہے۔
دریں اثنا IRGC کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے ایک امریکی پائلٹ کو بچانے سے متعلق امریکی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے واشنگٹن پر حقائق کو “ہالی ووڈ طرز” میں پیش کرنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے ایک امریکی F-15 طیارے کے ملبے کی تصاویر کا حوالہ بھی دیا، تاہم واقعے کی تفصیلات کے بارے میں ایرانی اور امریکی بیانات مختلف ہیں۔
امریکا کے جنگی نقصانات اربوں ڈالر تک پہنچ گئے
امریکی حکومتی رپورٹوں سے جنگ کے مالی اور عسکری اثرات کی زیادہ واضح تصویر سامنے آتی ہے۔
امریکی محکمہ دفاع کے انسپکٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق آپریشن ایپک فیوری پر 30 جون تک تقریباً 33.4 ارب ڈالر خرچ ہوچکے تھے۔ اس رقم میں 22.3 ارب ڈالر گولہ بارود، تقریباً 3.7 ارب ڈالر فوجی سازوسامان کے نقصانات اور تقریباً 7.4 ارب ڈالر اضافی آپریشنل اخراجات شامل ہیں۔ رپورٹ پر مبنی امریکی میڈیا کی تفصیلات کے مطابق تقریباً 60 طیاروں کو نقصان پہنچا یا وہ ضائع ہوئے۔
انسپکٹر جنرل نے خبردار کیا کہ گولہ بارود کے بڑے پیمانے پر استعمال کے نتیجے میں امریکی فوج کو اسٹریٹجک ذخائر میں کمی کا سامنا ہے اور دفاعی صنعت میں ہتھیاروں کی دوبارہ تیاری اور فراہمی کے حوالے سے کئی رکاوٹیں سامنے آئی ہیں۔
یہ 33.4 ارب ڈالر کا تخمینہ ایرانی حملوں سے تباہ یا متاثر ہونے والے امریکی فوجی اڈوں کی مرمت کے اخراجات کو شامل نہیں کرتا، اس لیے مجموعی مالی بوجھ مزید بڑھ سکتا ہے۔
دوسری جانب امریکی کانگریشنل بجٹ آفس (CBO) نے جنگ کی مجموعی لاگت تقریباً 38 ارب ڈالر بتائی ہے اور کہا ہے کہ جنگ جاری رہنے کی صورت میں اخراجات میں ہر ماہ مزید تقریباً 2 سے 3 ارب ڈالر اضافہ ہوسکتا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں متعدد امریکی اڈے ایرانی حملوں کی زد میں
امریکی محکمہ دفاع کے انسپکٹر جنرل کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کی جانب سے درج ذیل ممالک میں امریکی فوجی تنصیبات پر حملوں کی اطلاع دی:
کویت
بحرین
قطر
متحدہ عرب امارات
سعودی عرب
عراق
عمان
اردن
سی بی ایس نیوز کو حاصل ہونے والی نئی تصاویر میں ان تنصیبات پر عمارتوں، گاڑیوں، طیاروں اور دیگر فوجی انفراسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصانات دکھائے گئے ہیں۔
سعودی عرب میں E-3 سینٹری طیارے کو نقصان
سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئربیس کی تصاویر میں امریکی E-3 سینٹری طیارے کے پچھلے حصے کو شدید نقصان پہنچا ہوا دکھایا گیا ہے۔ سی بی ایس کے مطابق طیارے کی دم کا حصہ مرکزی ڈھانچے سے الگ دکھائی دیتا ہے، جبکہ دیگر تصاویر میں فوجی عمارتوں اور بیرکس کو نقصان کی نشاندہی کی گئی ہے۔
کویت میں امریکی تنصیبات متاثر
کویت کے کیمپ بُوہرنگ اور کیمپ عریفجان کی تصاویر میں تباہ شدہ گاڑیوں، متاثرہ عمارتوں اور جلے ہوئے ٹریلرز کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔
اس سے قبل اردن کے موافق السلطی ایئربیس پر بھی متعدد امریکی طیاروں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے تصاویر کے بارے میں سوال پر امریکی محکمہ دفاع نے فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔
18 امریکی فوجی ہلاک، 750 سے زائد زخمی
جنگ کے دوران امریکی فوجی اہلکاروں کو بھی جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
رائٹرز کے مطابق رواں ماہ کے آغاز تک امریکی حکام نے 18 امریکی فوجی اہلکاروں کی ہلاکت اور 750 سے زائد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی تھی۔
ان ہلاکتوں میں میزائل اور ڈرون حملوں کے علاوہ فوجی کارروائیوں کے دوران پیش آنے والے حادثات بھی شامل ہیں۔
دفاعی ریکارڈز کے مطابق جنگ کے ابتدائی مرحلے میں بھی سیکڑوں امریکی فوجی زخمی ہوئے، جن میں بعض کو شدید چوٹیں، شیلنگ کے زخم اور سر پر چوٹیں آئیں۔
گولہ بارود کے ذخائر میں کمی امریکا کے لیے بڑا مسئلہ
امریکی جنگی اخراجات کا ایک اہم حصہ جدید میزائلوں اور دیگر گولہ بارود پر خرچ ہوا ہے۔
پینٹاگون کے انسپکٹر جنرل کے مطابق ابتدائی چار ماہ میں 22.3 ارب ڈالر کا گولہ بارود استعمال کیا گیا، جس سے امریکی اسٹریٹجک ذخائر میں کمی اور دفاعی صنعت کی پیداواری صلاحیت میں رکاوٹیں سامنے آئیں۔
کانگریشنل بجٹ آفس نے بھی خبردار کیا ہے کہ میزائل دفاعی نظام میں استعمال ہونے والے بعض انٹرسیپٹرز کے ذخائر دوبارہ مکمل کرنے میں کئی سال اور بھاری اضافی اخراجات درکار ہوسکتے ہیں۔
امریکی جنگی جہازوں کو نقصان پہنچانے کا ایرانی دعویٰ متنازع
ایرانی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ ایرانی حملوں سے امریکی بحری جنگی جہاز بھی متاثر ہوئے۔
تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ نے مختلف مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ستمبر میں ایران نے ایک امریکی طیارہ بردار بحری جہاز اور ایک گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر سمیت دو امریکی بحری جہازوں کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنانے کی کوشش کی، لیکن دونوں جہاز حملے سے بچ نکلے اور کوئی امریکی اہلکار زخمی نہیں ہوا۔
بعد ازاں امریکی فورسز نے تین ایرانی تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنانے کا اعلان بھی کیا۔
اس طرح امریکی بحری جہازوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچانے سے متعلق ایرانی دعوے اور امریکی سرکاری مؤقف ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔
آبنائے ہرمز اور عالمی توانائی پر بھی اثرات
جنگ کے اثرات صرف فوجی نقصانات تک محدود نہیں رہے بلکہ عالمی توانائی اور بحری تجارت بھی متاثر ہوئی ہے۔
رائٹرز کے مطابق حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت انتہائی کم ہوگئی، منگل کو صرف چار بحری جہازوں کی نقل و حرکت ریکارڈ کی گئی جبکہ گزشتہ 10 دن کی اوسط تقریباً 18 جہاز روزانہ تھی۔
امریکی جنگی اخراجات، فوجی سازوسامان کے نقصانات، گولہ بارود کے ذخائر میں کمی، فوجی اڈوں کو پہنچنے والا نقصان اور آبنائے ہرمز میں محدود بحری آمدورفت نے جنگ کے مالی، فوجی اور عالمی اقتصادی اثرات کو مزید نمایاں کردیا ہے۔


