بیجنگ/تہران/اسلام آباد (MNN)؛ چین نے امریکا اور ایران پر زور دیا ہے کہ وہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (Islamabad MoU) کی جانب واپس آئیں اور خطے میں جاری کشیدگی کم کرنے کے لیے بامعنی مذاکرات دوبارہ شروع کریں۔
چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے بدھ کو بیجنگ میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کے دوران کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان تنازع کا طویل ہونا متعلقہ فریقوں اور عالمی برادری کے مشترکہ مفاد میں نہیں۔
وانگ یی نے دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں، کشیدگی میں اضافے سے گریز کریں، سابقہ مفاہمت کی بنیاد پر مذاکراتی طریقہ کار بحال کریں اور باہمی دلچسپی کے معاملات پر بامعنی مذاکرات کریں۔
چینی وزیر خارجہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چینی صدر شی جن پنگ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان واشنگٹن میں متوقع ملاقات سے قبل خطے کی صورتحال پر سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں۔
اسلام آباد مفاہمتی یادداشت جون میں پاکستان اور قطر کی ثالثی کی کوششوں کے نتیجے میں سامنے آئی تھی۔
چین کا آبنائے ہرمز فوری کھولنے پر زور
وانگ یی نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ آبنائے ہرمز کو جلد از جلد دوبارہ کھولنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ بین الاقوامی بحری آمدورفت محفوظ اور بلاتعطل رہے اور عالمی توانائی کی ترسیل اور سپلائی چینز کا استحکام برقرار رکھا جاسکے۔
چین نے خلیجی ممالک کے ساتھ ایران کے مذاکرات کی بھی حمایت کرتے ہوئے علاقائی ریاستوں کی خودمختاری، قومی سلامتی اور مشترکہ مفادات کے احترام پر زور دیا۔
وانگ یی نے کہا کہ بیجنگ نہیں چاہتا کہ موجودہ کشیدگی مزید یمن اور بحیرۂ احمر تک پھیلے۔ انہوں نے تمام فریقوں سے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنانے سے گریز اور تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی اپیل کی۔
چین کا ایران کے جائز حقوق کے تحفظ میں تعمیری کردار کا عزم
وانگ یی نے ایرانی وزیر خارجہ کو بتایا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن کی حیثیت سے چین بین الاقوامی تنازعات کے حل میں تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے ایران کے ساتھ چین کی جامع تزویراتی شراکت داری کا بھی اعادہ کیا اور تہران کے ساتھ مذاکرات اور تعاون مزید بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔
چین ایران سے تیل درآمد کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات ان کی تزویراتی شراکت داری کا اہم حصہ ہیں۔


