اسلام آباد (ایم این این): پہلی مرتبہ فلم کی ہدایت کاری کرنے والے نوجوان فلم ساز کری بارکر کی کم بجٹ ہارر فلم "آبسیشن” عالمی باکس آفس پر غیرمعمولی کامیابی حاصل کرتے ہوئے 40 کروڑ ڈالر سے زائد کا کاروبار کر چکی ہے اور اسے سینما کی تاریخ کی سب سے زیادہ منافع بخش فلموں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
تقریباً 7 لاکھ 50 ہزار سے 10 لاکھ ڈالر کے بجٹ سے تیار کی گئی یہ فلم گزشتہ سال ٹورنٹو انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں نمائش کے بعد مئی میں ریلیز ہوئی اور مختصر عرصے میں خاص طور پر جنریشن زیڈ ناظرین میں زبردست مقبولیت حاصل کر گئی۔
فلمی صنعت کے ماہرین کے مطابق بجٹ کے مقابلے میں حاصل ہونے والی آمدنی کے اعتبار سے "آبسیشن” ہر دور کی سب سے کامیاب فلم بننے کی جانب گامزن ہے۔
عالمی باکس آفس پر تقریباً 43 کروڑ ڈالر کی کمائی کے ساتھ اس فلم نے 1999 کی مشہور ہارر فلم "دی بلیئر وچ پراجیکٹ” کا ریکارڈ بھی پیچھے چھوڑ دیا، جس نے تقریباً 6 لاکھ ڈالر کے بجٹ سے 25 کروڑ ڈالر کمائے تھے۔
اگرچہ اویٹار، ٹائی ٹینک اور فروزن جیسی فلموں نے مجموعی طور پر زیادہ کمائی کی، تاہم ان کے بجٹ آبسیشن کے مقابلے میں سینکڑوں گنا زیادہ تھے۔
رواں سال کی ایک اور کامیاب ہارر فلم "بیک رومز” بھی، جسے صرف 20 سالہ ہدایت کار کین پارسنز نے بنایا، تقریباً 36 کروڑ ڈالر کما چکی ہے، تاہم آبسیشن اس سے بھی آگے نکل گئی ہے۔
دونوں فلموں کی غیرمعمولی کامیابی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ نوجوان ناظرین میں ہارر فلموں کی مقبولیت مسلسل بڑھ رہی ہے اور سوشل میڈیا سے وابستہ نوجوان تخلیق کار اب ہالی ووڈ میں اپنی جگہ بنا رہے ہیں۔
آسکر ایوارڈ یافتہ ہدایت کار کرسٹوفر نولان نے ان نوجوان فلم سازوں کی کامیابی کو "سینما کے مستقبل کے لیے انتہائی حوصلہ افزا” قرار دیا۔
امریکی ریاست الاباما سے تعلق رکھنے والے کری بارکر نے فلمی کیریئر کے آغاز میں لاس اینجلس منتقل ہو کر مختلف معمولی ملازمتیں کیں، جن میں اسٹاربکس پر کام کرنا اور کورونا وبا کے دوران فلمی پروڈکشنز میں خدمات انجام دینا شامل تھا۔ اسی دوران انہوں نے اپنے دوست کوپر ٹاملنسن کے ساتھ یوٹیوب چینل "That’s a Bad Idea” پر مختصر ہارر فلمیں اور مزاحیہ ویڈیوز بنائیں۔
"آبسیشن” کی کہانی ایک ایسے نوجوان کے گرد گھومتی ہے جو ایک پراسرار تعویذ "ون وش ولو” کے ذریعے اپنی دیرینہ دوست کو اپنے عشق میں مبتلا کرنے کی خواہش کرتا ہے، مگر اس خواہش کے نتیجے میں خوفناک اور پرتشدد واقعات جنم لیتے ہیں۔ فلم محبت، جنون، زہریلے تعلقات، رضامندی اور جدید معاشرتی رویوں جیسے موضوعات کو بھی اجاگر کرتی ہے۔
ہالی ووڈ کی معروف کمپنی فوکس فیچرز نے ٹورنٹو فلم فیسٹیول کے دوران اس فلم کے تقسیم کے حقوق ایک کروڑ پچاس لاکھ ڈالر میں خریدے، جو بعد میں انتہائی منافع بخش سرمایہ کاری ثابت ہوئی۔
شاندار کامیابی کے بعد کری بارکر اپنی نئی فلم "اینیتھنگ بٹ گھوسٹس” پر کام کر رہے ہیں، جبکہ انہیں 1974 کی کلاسک ہارر فلم "دی ٹیکساس چین سا ماسیکر” کے نئے ورژن کی ہدایت کاری بھی سونپی گئی ہے۔


