لائرز ایکشن کمیٹی نے ججز کی تقرری کا طریقہ مسترد، ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان

0
8

اسلام آباد (ایم این این): لائرز ایکشن کمیٹی (ایل اے سی) نے ہفتہ کے روز جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (جے سی پی) کی جانب سے ہائی کورٹس کے ججوں کی تقرری کے موجودہ طریقہ کار کو مسترد کرتے ہوئے اسے "ہارس ٹریڈنگ” قرار دیا اور کہا کہ یہ نظام عدلیہ کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔

اسلام آباد میں منعقدہ اجلاس کے بعد منظور کی گئی قرارداد میں کہا گیا کہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے اثرات پہلے ہی پاکستان کے نظامِ انصاف کو متاثر کر رہے ہیں، جبکہ ہائی کورٹ کے ججوں کی تقرری کا موجودہ طریقہ صورتحال کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔

اجلاس میں سینئر قانون دان اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر علی احمد کرد کو ملک گیر تحریک کی قیادت سونپنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علی احمد کرد نے کہا کہ انہوں نے ساتھی وکلا کے اصرار پر بھاری دل کے ساتھ یہ ذمہ داری قبول کی کیونکہ عوام کا نظامِ انصاف پر اعتماد بری طرح مجروح ہو چکا ہے۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ حامد خان، صلاح الدین احمد اور عابد شاہد زبیری بھی موجود تھے۔

انہوں نے کہا کہ 2007 کی وکلا تحریک کی طرح اس بار بھی عوام کو متحرک کیا جائے گا کیونکہ اصل فریق پاکستانی عوام ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ تحریک کا پہلا عوامی اجلاس خیبرپختونخوا میں ہوگا، جبکہ اوورسیز پاکستانیوں کی دعوت پر لندن میں بھی ایک پروگرام منعقد کیا جائے گا۔

قرارداد میں جوڈیشل کمیشن کے ان ارکان سے اپیل کی گئی کہ اگر ان کے ضمیر زندہ ہیں تو وہ اس مبینہ "ہارس ٹریڈنگ” کا حصہ نہ بنیں اور موجودہ تقرری کے عمل کے خلاف آواز بلند کریں۔

لائرز ایکشن کمیٹی نے الزام عائد کیا کہ ہائی کورٹس میں تقرریاں اب میرٹ، قابلیت اور دیانت داری کے بجائے سیاسی وابستگیوں اور مالی اثرورسوخ کی بنیاد پر کی جا رہی ہیں، جس سے انصاف کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

قرارداد میں ججوں کے انٹرویو کے طریقہ کار کو بھی "تماشا” قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ انٹرویوز بند کمروں میں کیے جا رہے ہیں جبکہ جوڈیشل کمیشن کے کئی ارکان کو اس عمل سے الگ رکھا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں مبینہ طور پر نااہل امیدواروں کا انتخاب ممکن ہو جاتا ہے۔

کمیٹی نے بلوچستان میں خراب ہوتی امن و امان کی صورتحال اور دہشت گردی کے واقعات میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا۔ قرارداد میں کہا گیا کہ "ہارڈ اسٹیٹ” کی پالیسی نے کئی علاقوں میں عوام کو ریاست سے دور کر دیا ہے، جس سے بے چینی اور بداعتمادی میں اضافہ ہوا۔

کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ متاثرہ علاقوں کے مسائل، شکایات اور عوامی تحفظات کا جائزہ لینے کے لیے ایک آزاد حقائق جاننے والا کمیشن قائم کیا جائے اور عوامی مشاورت کے ذریعے قابلِ عمل حل تجویز کیے جائیں۔

قرارداد میں وکلا ایمان مزاری، ہادی علی چٹھہ، سابق وزیراعظم عمران خان، ڈاکٹر یاسمین راشد، ماہ رنگ بلوچ اور علی وزیر سمیت دیگر افراد کی مسلسل گرفتاریوں پر بھی تنقید کی گئی۔ کمیٹی نے دعویٰ کیا کہ اختلافی آوازوں کو دبانے کی یہ پالیسی قابلِ تشویش ہے اور اس معاملے پر عدلیہ، وکلا برادری اور سیاسی جماعتوں کی خاموشی افسوسناک ہے۔

لائرز ایکشن کمیٹی نے خبردار کیا کہ موجودہ صورتحال غیر پائیدار ہے اور اگر بروقت اصلاحات نہ کی گئیں تو ملک ایک سنگین آئینی اور سیاسی بحران کی طرف بڑھ سکتا ہے۔

قرارداد میں پاکستان بار کونسل اور صوبائی بار کونسلز پر بھی بار ایسوسی ایشنز کے انتخابات میں مبینہ مداخلت کے الزامات عائد کیے گئے اور مطالبہ کیا گیا کہ تمام انتخابات قانون کے مطابق مقررہ وقت پر نادرا کی تصدیق کے ساتھ کرائے جائیں۔

کمیٹی نے جعلی ڈگری رکھنے والے یا دیگر سرکاری و نجی ملازمتوں میں کام کرنے والے وکلا کے نام فہرستوں سے خارج کرنے اور مختلف بار ایسوسی ایشنز کی دوہری رکنیت رکھنے والے افراد کے ووٹ ڈالنے پر مکمل پابندی عائد کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

قرارداد میں سندھ کے علاقے ببرلو میں پریا کماری اور دیگر لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے جاری دھرنے سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے سندھ حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کرے اور ان کے جائز مطالبات کو فوری طور پر حل کرے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں