امریکی فوجیوں کی ہلاکت پر ٹرمپ کی ایران کو سخت دھمکی

0
7

واشنگٹن/اسلام آباد (ایم این این): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت انتباہ دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ آئندہ اگر کسی بھی امریکی فوجی کو ایران کی کارروائیوں میں نقصان پہنچا تو اس کا جواب کئی گنا زیادہ طاقت سے دیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا، "ہر مرتبہ جب ایران کسی امریکی فوجی کو قتل کرے گا تو اس کی قیمت کئی گنا زیادہ ادا کرنا پڑے گی۔” انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے ہدایات وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین اور دیگر اعلیٰ فوجی حکام کو جاری کر دی گئی ہیں، تاہم مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل دسویں رات بھی فضائی حملے جاری رکھے ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے مطابق تازہ کارروائیوں کا مقصد ایران کی ان فوجی صلاحیتوں کو کمزور کرنا ہے جو آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی تجارتی جہازوں کے لیے خطرہ بن رہی ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک 17 امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔

امریکی فوج نے تصدیق کی کہ گزشتہ جمعہ اردن میں ایرانی بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون حملوں کے دوران دو امریکی فوجی ہلاک جبکہ ایک اہلکار لاپتہ ہو گیا تھا۔

اس کے علاوہ شمالی عراق میں ایک امریکی فوجی ایرانی ڈرون سے برآمد ہونے والے دھماکا خیز مواد کو ناکارہ بنانے کے دوران جان کی بازی ہار گیا۔

جنگ اپنے دوسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے اور امریکا نے ایران کے اندر پلوں، بجلی کی تنصیبات اور زیرزمین میزائل اڈوں سے منسلک مقامات کو بھی نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔

جواباً ایران نے خطے میں امریکی اتحادی ممالک پر نئے حملے کیے۔

اردن کی مسلح افواج نے اعلان کیا کہ انہوں نے پیر کی شام تین ایرانی میزائل مار گرائے، جبکہ کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

بحرین میں فضائی خطرے کے سائرن بجا دیے گئے، جبکہ بحرینی وزارت خارجہ نے ایرانی ڈرون حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان کارروائیوں سے شہری ہوابازی کو خطرات لاحق ہوئے ہیں۔

کویت کی فوج نے بھی تصدیق کی کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایرانی میزائلوں اور ڈرون حملوں کا کامیابی سے مقابلہ کیا۔

ادھر سمندری محاذ پر بھی صورتحال مزید خراب ہوگئی۔

برطانوی یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (UKMTO) کے مطابق آبنائے ہرمز میں متحدہ عرب امارات کے ساحل کے قریب ایک اور تجارتی جہاز حملے کا نشانہ بنا۔

اس سے قبل عمان کے ساحل کے قریب ایک جہاز پر میزائل حملے کے بعد آگ لگ گئی تھی اور عملہ جہاز چھوڑنے پر مجبور ہوگیا تھا، جبکہ جہاز کئی گھنٹے تک سمندر میں جلتا رہا۔

امریکی بحریہ اس دوران تجارتی جہازوں کو نسبتاً محفوظ راستوں سے گزارنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ آبنائے ہرمز میں بڑھتے خطرات سے بچا جا سکے۔

دوسری جانب صدر ٹرمپ نے ملکی دفاعی صنعت کو مضبوط بنانے کے لیے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر بھی دستخط کیے۔

نئے حکم کے تحت 2027 سے دفاعی ٹھیکیداروں کو ثابت کرنا ہوگا کہ اگر امریکی ساختہ خام مال دستیاب نہ ہو تو غیر ملکی مواد استعمال کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ انہیں خام مال سے لے کر فوج کو فراہم کی جانے والی مصنوعات تک اپنی پوری سپلائی چین کی تفصیلات بھی فراہم کرنا ہوں گی۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے بتایا کہ صدر ٹرمپ منگل کو ڈوور ایئر فورس بیس جائیں گے جہاں ایران جنگ میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تدفین سے قبل ہونے والی سرکاری تقریب میں شرکت کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ صدر اور پوری امریکی انتظامیہ ہلاک ہونے والے فوجیوں کے اہل خانہ کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کر رہی ہے۔

ادھر صدر ٹرمپ نے کینیڈا میں جاری جنگلاتی آگ کے معاملے پر بھی اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی پر زور دیا ہے کہ جنگلاتی آگ پر قابو پایا جائے کیونکہ اس کا دھواں امریکی فضائی معیار کو متاثر کر رہا ہے۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ اگر صورتحال برقرار رہی تو کینیڈا پر محصولات سمیت دیگر اقدامات پر غور کیا جا سکتا ہے۔

آبنائے ہرمز میں بڑھتے حملوں، امریکا اور ایران کے درمیان مسلسل فوجی کارروائیوں اور خلیجی ممالک تک جنگ کے پھیلاؤ نے عالمی امن، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی بحری تجارت کے مستقبل پر شدید خدشات پیدا کر دیے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں