لاہور/اسلام آباد/پشاور (ایم این این): ملک بھر میں جاری شدید مون سون بارشوں نے پیر کے روز خیبر پختونخوا، پنجاب اور آزاد کشمیر میں تباہی مچا دی، جہاں سیلابی ریلوں، مکانات کی چھتیں گرنے اور شہری علاقوں میں پانی جمع ہونے کے باعث متعدد افراد جاں بحق اور زخمی ہوگئے، جبکہ محکمہ موسمیات نے آئندہ چند روز کے دوران بڑے دریاؤں میں اونچے درجے کے سیلاب کا انتباہ جاری کر دیا ہے۔
خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کی تحصیل لنڈی کوتل میں افغانستان واپس جانے والے خاندانوں کو لے جانے والی ایک گاڑی شدید بارش کے بعد آنے والے سیلابی ریلے میں سلطان خیل مارکیٹ کے قریب بہہ گئی۔
ریسکیو 1122 کے مطابق امدادی کارروائیوں کے دوران غوطہ خوروں نے مقامی افراد کی مدد سے جمرود سے ایک مرد اور ایک خاتون جبکہ پرانگ سنگ کے علاقے سے ایک بچے کی لاش برآمد کی۔ لاشوں کو ابتدائی طور پر ٹائپ ڈی اسپتال جمرود منتقل کیا گیا، بعد ازاں انہیں لنڈی کوتل افغان مہاجر کیمپ پہنچا دیا گیا۔
ریسکیو اہلکاروں نے کارروائی کے دوران جمرود کے ایک مقامی شہری کی لاش بھی برآمد کی، جبکہ دیگر لاپتہ افراد کی تلاش جاری رہی۔
ادھر مردان کے گاؤں کالو ڈھیری میں ایک مکان کی چھت گرنے سے دو بچے جاں بحق ہوگئے، جبکہ ان کی والدہ اور 14 سالہ بہن زخمی ہوئیں جنہیں مردان میڈیکل کمپلیکس منتقل کر دیا گیا۔
یہ تمام واقعات ایسے وقت میں پیش آئے جب محکمہ موسمیات نے 19 سے 23 جولائی کے دوران خیبر پختونخوا، پنجاب، آزاد کشمیر اور دیگر علاقوں میں شدید بارشوں، سیلابی صورتحال اور لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔
صورتحال کے پیش نظر ریسکیو 1122 خیبر پختونخوا کے ڈائریکٹر جنرل شاہ فہد نے ہنگامی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے تمام اضلاع کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کی۔
ریسکیو کشتیوں، امدادی گاڑیوں، خصوصی آلات اور واٹر ریسکیو ٹیموں کو حساس علاقوں میں تعینات کر دیا گیا ہے، جبکہ دریاؤں، ندی نالوں اور برساتی گزرگاہوں پر مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔
شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز، دریاؤں اور برساتی نالوں سے دور رہنے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر 1122 پر رابطہ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
دوسری جانب پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو) نے بھی مرکزی کنٹرول روم قائم کرتے ہوئے تمام آپریشنل ٹیموں کو الرٹ کر دیا ہے اور شہریوں کو بجلی کے کھمبوں، ٹرانسفارمرز اور پانی میں ڈوبی برقی تنصیبات سے دور رہنے کی تلقین کی ہے۔
لاہور میں بھی موسلادھار بارش نے معمولات زندگی متاثر کیے۔
واسا کے مطابق سب سے زیادہ 98 ملی میٹر بارش گلشن راوی میں ریکارڈ کی گئی، جبکہ جوہر ٹاؤن (86.4 ملی میٹر)، سمن آباد (85.4 ملی میٹر)، اقبال ٹاؤن (82.4 ملی میٹر)، سگیاں، شادی پورہ، نشتر ٹاؤن اور فرخ آباد میں بھی شدید بارش ہوئی۔
ریسکیو 1122 کے مطابق شادباغ میں ایک 22 سالہ نوجوان کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوگیا، جبکہ نین سکھ کے علاقے میں مکان کی چھت گرنے سے سات افراد کو ملبے سے زندہ نکال کر میو اسپتال منتقل کیا گیا، جن میں ایک خاتون کے سر پر شدید چوٹ آئی۔
آزاد کشمیر کے ضلع نیلم میں شدید بارشوں سے دو مکانات مکمل طور پر بہہ گئے جبکہ 16 دیگر مکانات کو جزوی نقصان پہنچا۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق 44 دکانیں، دو گاڑیاں، 13 موٹر سائیکلیں، 16 رابطہ پل، 12 بجلی کے کھمبے، ایک مسجد اور ایک نجی اسکول بھی بارشوں سے متاثر ہوئے ہیں۔
ڈپٹی کمشنر چوہدری اقبال حسن نے بتایا کہ متاثرہ خاندانوں کو امدادی سامان فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ سڑکوں سے ملبہ ہٹانے اور آمدورفت بحال کرنے کا کام جاری ہے۔
ادھر محکمہ موسمیات کے فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن (FFD) نے خبردار کیا ہے کہ مسلسل بارشوں اور مون سون کے طاقتور سلسلے کے باعث دریائے چناب، جہلم، کابل، راوی اور ان سے ملحقہ ندی نالوں میں پانی کی سطح میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
محکمہ نے خبردار کیا ہے کہ مرالہ کے مقام پر دریائے چناب میں اونچے درجے کا سیلاب آسکتا ہے، جبکہ منگلا کے بالائی علاقوں، جہلم، چناب اور راوی کے برساتی نالوں میں بھی شدید طغیانی کا خدشہ ہے۔
اس کے علاوہ ڈی جی خان کے پہاڑی ندی نالوں، خیبر پختونخوا، شمالی بلوچستان اور پنجاب کے متعدد شہری علاقوں بشمول راولپنڈی، جہلم، گوجرانوالہ، سرگودھا، خوشاب، سیالکوٹ، گجرات، نارووال، لاہور، اوکاڑہ، ساہیوال، بہاولنگر اور فیصل آباد میں اربن فلڈنگ کا خطرہ ظاہر کیا گیا ہے۔
محکمہ آبپاشی پنجاب کے مطابق دریائے چناب اس وقت درمیانے درجے کے سیلاب میں ہے، تاہم مقبوضہ جموں و کشمیر اور پنجاب کے کیچمنٹ علاقوں میں مزید بارشوں کی صورت میں یہ اونچے درجے کے سیلاب میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
دریں اثنا واپڈا کی تازہ رپورٹ کے مطابق دریائے سندھ مختلف مقامات پر کم درجے کے بہاؤ پر ہے، جبکہ دریائے جہلم کم سے درمیانے درجے اور دریائے چناب متعدد مقامات پر درمیانے سے اونچے درجے کے سیلاب کی کیفیت میں بہہ رہا ہے۔
حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ موسمی انتباہات پر عمل کریں، سیلابی علاقوں سے دور رہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں متعلقہ اداروں سے فوری رابطہ کریں۔


