اسلام آباد (ایم این این): اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) کے رجسٹرار نے پشاور ہائی کورٹ میں تعینات جسٹس بابر ستار کو اسلام آباد میں واقع سرکاری رہائش گاہ 30 روز کے اندر خالی کرنے کا نوٹس جاری کر دیا ہے، جس کے بعد ان کی رہائش گاہ کی سرکاری الاٹمنٹ منسوخ کر دی گئی ہے۔
نوٹس کے مطابق اسٹیٹ آفس نے 3 جولائی کو سرکاری رہائش گاہ کی الاٹمنٹ منسوخ کر دی تھی، کیونکہ جسٹس بابر ستار کا تبادلہ اسلام آباد ہائی کورٹ سے پشاور ہائی کورٹ کر دیا گیا تھا۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ انہیں 3 اگست تک سرکاری رہائش گاہ خالی کرنا ہوگی، جبکہ 30 روز کی مدت کا آغاز 3 جولائی سے شمار کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ 28 اپریل کو جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے جسٹس بابر ستار کے اسلام آباد ہائی کورٹ سے پشاور ہائی کورٹ تبادلے کی منظوری دی تھی۔ تبادلے کے بعد انہوں نے پشاور میں نئی سرکاری رہائش حاصل کرنے کے بجائے اپنی مدتِ تعیناتی کے دوران اسلام آباد میں رہائش برقرار رکھنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔
ذرائع کے مطابق جسٹس بابر ستار نے اس حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ کی انتظامیہ کو بھی آگاہ کیا تھا کہ وہ اسلام آباد کی سرکاری رہائش برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔
اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو سرکاری رہائش کی فراہمی کا معاملہ کئی برسوں سے قانونی اور انتظامی سطح پر بحث کا موضوع رہا ہے۔
سال 2023 میں جسٹس بابر ستار کے تحریر کردہ ایک فیصلے میں قرار دیا گیا تھا کہ اعلیٰ عدالتوں کے جج اپنی تقرری کے دن سے ملازمت کے اختتام تک سرکاری رہائش کے حق دار ہیں، اور یہ حق صدارتی حکم کے تحت حاصل ہوتا ہے، نہ کہ وفاقی سرکاری ملازمین کے لیے بنائے گئے عمومی رہائشی قواعد کے تحت۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ بدھ کے روز متعلقہ حکام جسٹس بابر ستار کی اسلام آباد رہائش گاہ پر پہنچے تھے، تاہم وہ عدالتی رخصت پر ہونے اور گھر پر موجود نہ ہونے کے باعث نوٹس کی تعمیل کیے بغیر واپس چلے گئے۔


