اسلام آباد (ایم این این): وزیراعظم شہباز شریف نے غزہ امن منصوبے کے تحت بورڈ آف پیس کی جانب سے غیر مسلحی کے عمل میں ہونے والی پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ یہ اقدامات خطے میں پائیدار امن کے قیام میں مددگار ثابت ہوں گے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں وزیراعظم نے امریکا، مصر، قطر اور ترکیہ سمیت ثالثی کرنے والے ممالک کی کوششوں کو سراہتے ہوئے انہیں اس پیش رفت کا کریڈٹ دیا۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے اسے بورڈ آف پیس کی ایک اہم کامیابی قرار دیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو امید ہے کہ غزہ امن منصوبے کے تمام وعدوں پر عملی پیش رفت ہوگی اور ایک قابلِ اعتماد، وقت کے تعین پر مبنی سیاسی عمل کے ذریعے فلسطینی عوام کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق حقِ خودارادیت حاصل ہوگا۔
انہوں نے ایک بار پھر پاکستان کے اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ 1967ء سے قبل کی سرحدوں پر مشتمل، آزاد، خودمختار اور متصل ریاستِ فلسطین کا قیام عمل میں آنا چاہیے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ قاہرہ میں ثالثوں اور حماس کے رہنماؤں کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں غزہ میں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کی مرحلہ وار غیر مسلحی پر اتفاقِ رائے سامنے آیا ہے، تاہم حماس کے ایک عہدیدار نے اسے ابتدائی مسودہ قرار دیا جبکہ امریکی حکام کے مطابق اسرائیل اس معاہدے پر تاحال شکوک رکھتا ہے۔
بورڈ آف پیس، جس کی تجویز ستمبر 2025ء میں دی گئی تھی اور جنوری 2026ء میں باضابطہ طور پر قائم کیا گیا، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظوری کے بعد غزہ میں جنگ بندی کے بعد استحکام اور تعمیرِ نو کی نگرانی کے لیے تشکیل دیا گیا۔ پاکستان اس بین الاقوامی ادارے کے بانی اراکین میں شامل ہے، جس کا دائرۂ کار اب دنیا کے دیگر تنازع زدہ علاقوں میں امن کے فروغ تک وسیع کر دیا گیا ہے۔


