اسلام آباد (MNN) خصوصی رپورٹ: سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کے بعد سیاسی و عوامی حلقوں میں حکومت کے مستقبل اور پی ٹی آئی کے ساتھ ممکنہ ڈیل سے متعلق قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ اسی دوران عدالتی ہدایت میں عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان کو شفا ہسپتال سے منسلک طبی بورڈ میں شامل کیے جانے پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
سماجی حلقوں میں ایک الگ بحث یہ شروع ہو گئی ہے کہ آیا ڈاکٹر عظمیٰ خان باقاعدہ طور پر مستند اور رجسٹرڈ ڈاکٹر ہیں اور ان کی طبی و پیشہ ورانہ اسناد کیا ہیں، یا انہیں بانی پی ٹی آئی کی بہن ہونے کی نسبت سے طبی بورڈ کا حصہ بنایا گیا۔
دستیاب معلومات، جن میں پی ایم ڈی سی کے قابلِ تلاش ریکارڈ، پرانے اخباری حوالہ جات اور حالیہ معتبر میڈیا رپورٹس شامل ہیں، کے جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ ڈاکٹر عظمیٰ خان کو عمران خان کی بہن اور متعدد ذرائع میں سرجن کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ دی ٹائمز نے مئی 2026 کی ایک رپورٹ میں انہیں ریٹائرڈ سرجن بھی قرار دیا۔
تاہم، پی ایم ڈی سی کے عوامی طور پر قابلِ تلاش آن لائن ریکارڈ میں ان کے نام سے ایسا قابلِ تصدیق پروفائل سامنے نہیں آیا جس سے ان کی ایم بی بی ایس کی ڈگری، متعلقہ میڈیکل کالج یا یونیورسٹی اور پوسٹ گریجویٹ طبی قابلیت کی آزادانہ طور پر تصدیق ہو سکے۔
ایک غیر سرکاری ویب سائٹ پر یہ دعویٰ ضرور ملتا ہے کہ انہوں نے لاہور کے ایک میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کیا، تاہم اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔ اسی طرح عام سوانحی ذرائع انہیں لاہور میں مقیم ریٹائرڈ سرجن کے طور پر بیان کرتے ہیں، لیکن ان میں ایم بی بی ایس کے ادارے یا ایف سی پی ایس، ایم ایس یا ایف آر سی ایس جیسی مخصوص پوسٹ گریجویٹ قابلیت کی واضح تفصیل موجود نہیں۔
دستیاب عوامی پی ایم ڈی سی سرچ ریکارڈ میں بھی ایسی قابلِ تصدیق تعلیمی یا پیشہ ورانہ تفصیلات سامنے نہیں آئیں جن کی بنیاد پر ان کی طبی اسناد کو حتمی طور پر ثابت کیا جا سکے۔
تاہم، صرف نام کی مماثلت کی بنیاد پر پی ایم ڈی سی ریکارڈ میں موجود کسی دوسری ڈاکٹر عظمیٰ خان کی تفصیلات کو عمران خان کی بہن سے منسوب کرنا بھی درست نہیں ہوگا۔
اس معاملے میں حتمی وضاحت کے لیے متعلقہ سرکاری ریکارڈ، بالخصوص میڈیکل رجسٹریشن، تعلیمی اسناد اور پیشہ ورانہ حیثیت کی باضابطہ تصدیق ضروری ہے۔


