تہران/اسلام آباد (MNN)؛ ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی بحری ناکہ بندی کے باوجود رواں ایرانی سال کے پہلے چار ماہ کے دوران تقریباً 7.5 ارب ڈالر کی تیل آمدن مرکزی بینک کو منتقل کی گئی۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق 21 مارچ سے 22 جولائی کے درمیان حاصل ہونے والی یہ آمدن مقررہ بجٹ ہدف کا تقریباً 99 فیصد بنتی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ اور آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل کے حوالے سے تنازع جاری ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل کی مقدار اور امریکی فوجی کارروائیوں کے اخراجات سے متعلق دعووں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔
قالیباف نے ایکس پر بیسنٹ کے بیان کے جواب میں امریکی اعداد و شمار پر سوال اٹھاتے ہوئے واشنگٹن کے جنگی اخراجات اور تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے وابستہ مالی مفادات پر بھی اعتراض کیا۔
ایران کا علاقائی تعاون پر زور
محمد باقر قالیباف نے کہا کہ خطے میں ابھرتے ہوئے نئے معاہدے اور انتظامات ایک ایسے نئے دور کا آغاز ہوسکتے ہیں جس میں مسلم ممالک بیرونی طاقتوں پر انحصار کے بجائے اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ کریں۔
انہوں نے کہا کہ خطے کا دیرپا امن و استحکام بیرونی طاقتوں کی مداخلت کے بجائے ہمسایہ ممالک کے باہمی تعاون سے قائم ہونا چاہیے۔
یو اے ای میں بینک مصر کی شاخوں کا جائزہ
دوسری جانب متحدہ عرب امارات کے مرکزی بینک نے امریکی پابندیوں کے بعد مصر کے بینک مصر (Banque Misr) کی امارات میں قائم شاخوں کا ہنگامی جائزہ لینے کا اعلان کیا ہے۔
امریکی پابندیوں میں بینک پر ایران سے متعلق مالی سرگرمیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
یو اے ای کے مرکزی بینک نے کہا کہ ملک میں لائسنس یافتہ بینک اپنے مالیاتی نظام کو ساکھ کے خطرات سے محفوظ رکھیں اور جدید مالیاتی ڈھانچے کے غلط استعمال کی اجازت نہ دیں۔
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق پابندیوں کا مقصد بینک کی ڈالر میں لین دین کی صلاحیت محدود کرنا اور ایران پر واشنگٹن کی بڑھتی ہوئی اقتصادی پابندیوں کو مزید مؤثر بنانا ہے۔
ایران کا دفاعی صلاحیتیں مزید مضبوط بنانے کا عزم
ایران کے قائم مقام وزیر دفاع مجید ابن رضا نے کہا ہے کہ تہران اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کا عمل جاری رکھے گا۔
انہوں نے قومی اتحاد کو ایران کی دفاعی طاقت کا بنیادی ستون قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کو کسی بھی ممکنہ حملے یا خطرے سے محفوظ رکھنے کے لیے دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ جاری رکھا جائے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ کا امریکا پر توانائی منڈی میں اثراندازی کا الزام
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکا پر عالمی توانائی منڈیوں کو سیاسی اور مالی مفادات کے لیے متاثر کرنے کی کوششوں کا الزام عائد کیا ہے۔
عراقچی نے دعویٰ کیا کہ امریکی حکومت کے بعض عناصر تیل کی قیمتوں پر اثرانداز ہونے اور جنگ کو طول دینے کے لیے میڈیا کو استعمال کر رہے ہیں۔
انہوں نے اسرائیل نواز عناصر پر بھی جنگ کی حمایت اور اس کے حوالے سے مثبت اندازے پیش کرنے کا الزام عائد کیا، جبکہ کہا کہ توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے اصل اثرات بالآخر امریکی صارفین کو برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔


