استنبول (MNN)؛ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان قائم ہونے والے سہ فریقی دفاعی اتحاد کو باضابطہ طور پر ’’مکہ دفاعی اتحاد‘‘ کا نام دے دیا گیا ہے، جبکہ اتحاد کے پہلے سیکریٹری جنرل کا تقرر پاکستان سے کیا جائے گا۔
ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے پیر کو استنبول میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت قائم اسٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی کے پہلے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ اعلان کیا۔
استنبول کے تاریخی چراغان پیلس میں ہونے والے اجلاس میں تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور اعلیٰ عسکری حکام نے شرکت کی۔
پاکستان کی نمائندگی نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف اور چیف آف ڈیفنس فورسز و چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کی۔
حاقان فیدان نے کہا کہ اجلاس میں معاہدے پر عملدرآمد کے لیے کیے جانے والے عملی اقدامات اور اتحاد کے ادارہ جاتی ڈھانچے کے قیام پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ آج سے اتحاد کے ادارہ جاتی ڈھانچے کی تشکیل کا عمل شروع کردیا گیا ہے۔
ترک وزیر خارجہ نے اعلان کیا کہ اس اتحاد کا سرکاری نام مکہ دفاعی اتحاد ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ اتحاد کا سیکریٹریٹ ریاض میں قائم کردیا گیا ہے اور پہلے سیکریٹری جنرل کا تقرر پاکستان سے کیا جائے گا۔
فیدان کے مطابق اجلاس میں اتحاد کو ادارہ جاتی شکل دینے، اس کے آغاز کے طریقہ کار اور مستقبل کے لائحہ عمل سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ پہلے اجلاس میں کیے گئے فیصلے بہترین نتائج دیں گے اور تینوں ممالک کے درمیان دفاعی اور اسٹریٹجک تعاون مزید مضبوط ہوگا۔
اتحاد کسی ملک کے خلاف نہیں، حاقان فیدان
ترک وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ مکہ دفاعی اتحاد کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ ایک محفوظ، مستحکم اور خوشحال خطے کے قیام کے لیے تشکیل دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اتحاد خودمختاری، علاقائی سالمیت کے احترام اور دوسرے ممالک کے داخلی معاملات میں عدم مداخلت جیسے بین الاقوامی اصولوں پر قائم ہوگا۔
حاقان فیدان نے کہا کہ یہ اتحاد دیگر ممالک کی شراکت اور شمولیت کے لیے بھی کھلا ہوگا، تاہم نئے ارکان کے لیے کچھ اصول، شرائط اور معیارات مقرر کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اتحاد کے مستقبل میں توسیع کی توقع ہے، اس لیے ضروری ہے کہ اسے پہلے مضبوط اور مؤثر ادارہ جاتی ڈھانچہ دیا جائے۔
ترک وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ یہ نیا اتحاد پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی دیگر بین الاقوامی معاہدوں اور اتحادوں کے تحت ذمہ داریوں کو متاثر نہیں کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ تینوں ممالک نے استنبول اجلاس کے ذریعے خطے کی سلامتی اور استحکام کے لیے مشترکہ ذمہ داری ادا کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان 7 اگست کو دستخط کیے گئے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
مکہ دفاعی اتحاد کا پہلا اعلیٰ سطحی اجلاس
ترکیہ کی جانب سے اجلاس میں وزیر خارجہ حاقان فیدان، وزیر دفاع یشار گولر اور چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلچک بایراکتار اوغلو شریک ہوئے۔
سعودی عرب کی نمائندگی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان، وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور چیف آف جنرل اسٹاف جنرل فیاض بن حامد الرویلی نے کی۔
پاکستانی دفتر خارجہ نے اجلاس کی تصاویر بھی جاری کیں، جبکہ اسحاق ڈار نے اپنے پیغام میں اسے ایک ’’بہترین اور تاریخی افتتاحی اجلاس‘‘ قرار دیا۔
پاکستان نے کہا کہ اجلاس میں شرکت ترکیہ اور سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے تاریخی برادرانہ تعلقات اور خطے میں دیرپا امن و استحکام کے لیے اس کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔
مکہ معاہدے کے تحت ہونے والے پہلے وزارتی اجلاس کو تینوں ممالک کے درمیان سیاسی، اسٹریٹجک اور دفاعی تعاون کے ایک جامع فریم ورک کی تشکیل کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوطرفہ دفاعی ملاقاتیں بھی ہوئیں
سہ فریقی اجلاس سے قبل تینوں ممالک کے اعلیٰ حکام نے استنبول میں متعدد دوطرفہ ملاقاتیں بھی کیں۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت پہلے اجلاس سے قبل ترک وزیر دفاع یشار گولر سے ملاقات کی۔
ترک وزیر دفاع نے پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف سے بھی علیحدہ ملاقات کی، جس میں چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلچک بایراکتار اوغلو بھی موجود تھے۔
ملاقاتوں میں پاکستان اور ترکیہ نے مشترکہ دفاعی تعاون بڑھانے اور علاقائی سلامتی کے معاملات پر قریبی رابطہ کاری جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے سہ فریقی اجلاس کے موقع پر اپنے سعودی ہم منصب سے بھی ملاقات کی۔
حاقان فیدان اس سے قبل اتوار کو اسحاق ڈار سے بھی ملاقات کرچکے تھے۔
اسحاق ڈار بشکیک روانہ
استنبول کا دورہ مکمل کرنے کے بعد نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار ترک وزیر خارجہ اور وزیر دفاع کے ہمراہ بشکیک روانہ ہوگئے۔
وہ وہاں وزیراعظم شہباز شریف اور پاکستانی وفد کے ہمراہ شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان مملکت کے اجلاس اور ایس سی او پلس سمٹ میں شرکت کریں گے۔


