ٹرمپ اور پیوٹن کا ایک گھنٹے طویل ٹیلیفونک رابطہ، یوکرین جنگ جلد ختم کرنے پر زور

0
8

ماسکو (ایم این این)؛ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان منگل کو ایک گھنٹے طویل ٹیلیفونک گفتگو ہوئی، جس میں یوکرین جنگ کے خاتمے، امریکی نمائندوں کے ماسکو اور کیف کے حالیہ دوروں اور امریکہ و روس کے تعلقات کی مکمل بحالی کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

کریملن کے معاون یوری اوشاکوف کے مطابق صدر ٹرمپ نے یوکرین تنازع کو جلد از جلد ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ جنگ کے خاتمے سے امریکہ اور روس کے درمیان تعلقات کی مکمل بحالی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

یوری اوشاکوف نے بتایا کہ دونوں صدور کے درمیان گفتگو ٹھیک ایک گھنٹے تک جاری رہی اور یہ رابطہ تعمیری، کھلے، کاروباری اور باہمی احترام کے ماحول میں ہوا۔

دونوں رہنماؤں نے امریکی صدر کے خصوصی نمائندوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے 5 اور 6 ستمبر کو ماسکو اور کیف کے دوروں کے نتائج پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ اوشاکوف کے مطابق پیوٹن اور ٹرمپ دونوں نے ان سفارتی رابطوں کے نتائج کو مثبت قرار دیا۔

اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے 5 ستمبر کو کریملن میں صدر پیوٹن سے ملاقات کی، جو تین گھنٹے سے زائد جاری رہی۔ اوشاکوف نے اس سے قبل بتایا تھا کہ امریکی نمائندے مذاکرات کے لیے مکمل تیاری کے ساتھ آئے تھے اور انہوں نے یوکرین تنازع کے ممکنہ حل کے لیے مختلف تجاویز اور نکات پیش کیے۔

ماسکو کے دورے کے بعد امریکی نمائندے 6 ستمبر کو کیف پہنچے، جہاں انہوں نے یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی سے ملاقات کی۔ وٹکوف نے بعد میں اس ملاقات کو اہم اور بامعنی قرار دیا۔

اوشاکوف کے مطابق صدر پیوٹن نے صدر ٹرمپ کو محاذ جنگ کی صورتحال کے بارے میں روسی مؤقف اور اپنی تشخیص سے آگاہ کیا، جبکہ یہ بھی بتایا کہ امریکہ تنازع کے خاتمے میں کیا کردار ادا کر سکتا ہے۔

روسی صدر نے امریکی صدر کو یہ بھی یقین دہانی کرائی کہ روس کے یورپ کے خلاف کوئی جارحانہ یا دشمنانہ عزائم نہیں ہیں۔

یوری اوشاکوف نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح طور پر اس خواہش کا اظہار کیا کہ یوکرین تنازع کو جلد از جلد ختم کیا جائے، کیونکہ اس سے امریکہ اور روس کے درمیان تعلقات کی مکمل بحالی کے لیے وسیع اور دور رس مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے مطابق تعلقات کی بحالی سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور اقتصادی تعاون کو بھی نمایاں فروغ ملے گا اور دونوں ملکوں کو بڑے فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔

اوشاکوف نے بتایا کہ صدر ٹرمپ اپنی صدارت کے دوران اس معاملے میں اہم پیش رفت کے خواہاں ہیں، جبکہ صدر پیوٹن نے بھی سیاسی اور سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششوں کی حمایت کی۔

دونوں رہنماؤں نے جنگی قیدیوں کے تبادلے کے عمل کو جاری رکھنے کی ضرورت پر بھی اتفاق کیا۔

تاہم، یوری اوشاکوف نے گفتگو کی مزید تفصیلات ظاہر کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ دونوں صدور کے درمیان ہونے والی بات چیت خفیہ نوعیت کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ماسکو اور واشنگٹن کے درمیان مختلف سفارتی ذرائع سے رابطے جاری رہیں گے، جبکہ پیوٹن اور ٹرمپ نے ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں رہنے اور ضرورت پڑنے پر دوبارہ ٹیلیفونک گفتگو کرنے پر بھی اتفاق کیا۔

دوسری جانب کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے 7 ستمبر کو کہا تھا کہ ماسکو یوکرین تنازع کے حوالے سے روس، یوکرین اور امریکہ کے درمیان سہ فریقی مذاکرات کی بحالی کے امکان کو مسترد نہیں کرتا، تاہم اس مرحلے پر مذاکرات کی تفصیلات پر بات کرنا قبل از وقت ہو گا۔

پیوٹن اور ٹرمپ کے درمیان یہ تازہ ٹیلیفونک رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب یوکرین جنگ کے مذاکراتی حل کے لیے سفارتی سرگرمیاں تیز ہو رہی ہیں اور واشنگٹن و ماسکو کے کشیدہ تعلقات میں بہتری کے امکانات پر بھی توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں