برطانیہ کا مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی ‘نسلی تطہیر’ کا الزام، 12 ممالک کا اسرائیلی بستیوں کی تجارت پر پابندی کا اعلان

0
22

لندن/اسلام آباد (ایم این این)؛ برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے اسرائیلی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں شدت پسند آبادکاروں کی جانب سے فلسطینیوں کی مبینہ “نسلی تطہیر” پر آنکھیں بند کیے ہوئے ہے، جبکہ برطانیہ سمیت 12 ممالک نے اسرائیلی بستیوں سے متعلق تجارت پر پابندیاں عائد کرنے یا اس پر غور کرنے کا اعلان کیا ہے۔

منگل کو ایک ویڈیو بیان میں ایڈ ملی بینڈ نے فلسطین کی صورتحال کو ایک “اخلاقی ایمرجنسی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ غزہ میں جنگی جرائم کے شواہد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مغربی کنارے میں آبادکاروں کی دہشت گردی غیر معمولی سطح پر پہنچ چکی ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ کے مطابق برطانوی حکومت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ مغربی کنارے کے بعض علاقوں میں شدت پسند آبادکاروں کی کارروائیوں کے نتیجے میں فلسطینیوں کو جبری طور پر بے دخل کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ برطانوی حکومت اس بات سے اتفاق کرتی ہے کہ مغربی کنارے کے بعض علاقوں میں فلسطینیوں کی نسلی تطہیر ہو رہی ہے، جس کے لیے شدت پسند آبادکار ذمہ دار ہیں۔

ایڈ ملی بینڈ نے الزام لگایا کہ اسرائیلی حکومت نے نہ صرف ان واقعات کو روکنے میں ناکامی دکھائی بلکہ بعض حکومتی ارکان اور عہدیداروں کے بیانات اور اقدامات نے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کے ماحول کو مزید تقویت دی۔

انہوں نے کہا کہ برطانیہ اب خاموش تماشائی نہیں رہے گا اور وہ فلسطینیوں کے حقوق اور بین الاقوامی قانون کے دفاع کے لیے مزید مضبوط اور جرات مندانہ اقدامات کرے گا۔

انہوں نے دو ریاستی حل کو برطانیہ کی بنیادی پالیسی قرار دیتے ہوئے کہا کہ لندن فلسطینی علاقوں پر قبضے کو غیر قانونی قرار دے رہا ہے۔

ایڈ ملی بینڈ نے اعلان کیا کہ برطانیہ مقبوضہ علاقوں میں قائم غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے تیار ہونے والی اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ برطانیہ ان مخصوص کمپنیوں اور افراد کے خلاف بھی کارروائی کرے گا جو نئی اسرائیلی بستیوں کی تعمیر، بنیادی ڈھانچے، مالی معاونت، رئیل اسٹیٹ یا دیگر سہولیات کی فراہمی میں کردار ادا کر رہے ہیں۔

ان کے مطابق یہ اقدامات آئندہ چھ سے نو ماہ کے دوران نافذ کیے جانے کی توقع ہے۔

برطانیہ نے مزید شدت پسند اسرائیلی آبادکاروں پر پابندیاں عائد کرنے کا بھی اعلان کیا ہے، جن پر فلسطینی برادریوں کے خلاف تشدد کی حمایت یا تشدد پر اکسانے کے الزامات ہیں۔

ایڈ ملی بینڈ نے کہا کہ وہ اپنے یہودی ورثے پر فخر کرتے ہیں اور اسرائیل کی حمایت کے حوالے سے ان کا موقف واضح اور مضبوط ہے، تاہم انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی حمایت اور ریاست فلسطین کے قیام کی حمایت میں کوئی تضاد نہیں۔

دوسری جانب امریکہ نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اسرائیلی بستیوں سے تجارت کے خلاف برطانیہ کی قیادت میں کیے جانے والے اقدامات میں شامل نہیں ہو گا۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ واشنگٹن برطانیہ کے طرز عمل کو اختیار نہیں کرے گا اور امریکہ اس وقت مغربی کنارے میں مزید عدم استحکام نہیں چاہتا۔

مارکو روبیو نے لاطینی امریکہ کے دورے پر روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ برطانیہ کی طرح کے اقدامات نہیں کرے گا کیونکہ خطے میں پہلے ہی متعدد بحران موجود ہیں اور مغربی کنارے میں مزید کشیدگی سے گریز ضروری ہے۔

برطانیہ، کینیڈا اور فرانس سمیت 12 ممالک نے اسرائیلی بستیوں سے متعلق تجارت پر پابندیاں عائد کرنے، محدود کرنے یا ایسے اقدامات پر سنجیدگی سے غور کرنے کا اعلان کیا ہے۔

دیگر ممالک میں ڈنمارک، فن لینڈ، آئس لینڈ، آئرلینڈ، ناروے، پولینڈ، پرتگال، اسپین اور سویڈن شامل ہیں۔

ان 12 ممالک کے وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ مغربی کنارے میں اسرائیلی حکومت کے اقدامات دو ریاستی حل کے امکانات کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

مشترکہ بیان میں خبردار کیا گیا کہ غیر معمولی آبادکار تشدد اور بستیوں کی تیزی سے توسیع کے باعث صورتحال تیزی سے بگڑ رہی ہے۔

وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر نئی بستیوں کی توسیع روکے، آبادکاروں کے تشدد کو روکے، ذمہ دار افراد کا احتساب یقینی بنائے اور اسرائیلی فورسز کے خلاف عائد الزامات کی تحقیقات کرے۔

بیان میں کہا گیا کہ یہ ممالک غیر قانونی قرار دی جانے والی اسرائیلی بستیوں سے آنے والی اشیا کی تجارت پر قومی سطح پر پابندیاں عائد کرنے یا یورپی سطح پر پابندیوں کی حمایت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

آئرلینڈ اور اسپین پہلے ہی اسرائیلی بستیوں سے تجارت کے حوالے سے اقدامات کر چکے ہیں، جبکہ فرانس یورپی یونین کی سطح پر بھی ایسی پابندیوں کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔

ادھر بین الاقوامی دباؤ میں اضافے کے دوران ایک اسرائیلی عدالت نے مشرقی یروشلم کے قریب ایک بڑے متنازعہ اسرائیلی آبادکاری منصوبے کو روکنے کے لیے دائر درخواست مسترد کر دی ہے۔

حقوق انسانی کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ مستقبل کی فلسطینی ریاست کے جغرافیائی تسلسل کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔

یروشلم ڈسٹرکٹ کورٹ نے حقوق گروپوں کی اس درخواست کو مسترد کر دیا جس میں منصوبے کے لیے ٹینڈرز کے اجرا کو روکنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

اسرائیلی وزارت تعمیرات و ہاؤسنگ نے جولائی میں 1,200 سے زائد رہائشی یونٹس کی تعمیر کے لیے ٹینڈر جاری کیا تھا، جس کے خلاف اسرائیلی اور فلسطینی حقوق تنظیموں نے قانونی کارروائی شروع کی۔

اسرائیلی غیر سرکاری تنظیم پیس ناؤ سمیت درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ اس منصوبے کے نتیجے میں سینکڑوں فلسطینیوں کو بے دخل کیا جا سکتا ہے اور زمین پر ایسے حالات پیدا ہو سکتے ہیں جنہیں بعد میں تبدیل کرنا انتہائی مشکل ہو گا۔

متنازعہ E1 منصوبہ، جسے کئی دہائیوں تک منجمد رکھنے کے بعد گزشتہ سال اسرائیل نے منظوری دی، مقبوضہ مشرقی یروشلم کو مغربی کنارے کے دیگر فلسطینی علاقوں سے مزید الگ کر سکتا ہے۔

برطانیہ اور فرانس سمیت چھ یورپی ممالک نے اگست میں اسرائیل سے اس منصوبے کو روکنے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔

تاہم اسرائیلی عدالت نے قرار دیا کہ فوری طور پر زمین پر ناقابل واپسی جسمانی تبدیلیاں متوقع نہیں ہیں اور منصوبے کے حوالے سے مناسب قانونی تحفظات موجود ہیں۔

حقوق انسانی کی تنظیموں نے عدالت کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس سے اسرائیلی حکومت کو اپنے موجودہ دور کے آخری مہینوں میں منصوبے کو آگے بڑھانے اور زمین پر ایسے حقائق قائم کرنے کا موقع مل سکتا ہے جنہیں مستقبل میں واپس لینا انتہائی مشکل ہو گا۔

تازہ پیش رفت نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع اور آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد پر عالمی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے، جبکہ برطانیہ اور دیگر ممالک نے خبردار کیا ہے کہ بستیوں کی مسلسل توسیع ایک آزاد فلسطینی ریاست اور دو ریاستی حل کے امکانات کو مزید کمزور کر سکتی ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں